حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 629
۶۲۹ والے وہ ستارے ہیں جو سماء الدنیا میں ہیں بظاہر منافی اور مبائن ان آیات سے دکھائی دیتا ہے جو فرشتوں کے بارے میں آئی ہیں لیکن اگر بنظر غور دیکھا جائے تو کچھ منافی نہیں کیونکہ ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے آسمان اور آسمانی اجرام کے لئے بطور جان کے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی شے کی جان اس شئے سے جدا نہیں ہوتی۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے بعض مقامات میں رمی ٹھہب کا فاعل فرشتوں کو ٹھہرایا اور بعض دوسرے مقامات میں اس رمی کا فاعل ستاروں کو ٹھہرایا کیونکہ فرشتے ستاروں میں اپنا اثر ڈالتے ہیں۔جیسا کہ جان بدن میں اپنا اثر ڈالتی ہے۔تب وہ اثر ستاروں سے نکل کر ان ارضی بخارات پر پڑتا ہے جو شہاب بننے کے لائق ہوتے ہیں تو وہ فی الفور قدرت خدا تعالیٰ سے مشتعل ہو جاتے ہیں۔اور فرشتے ایک دوسرے رنگ میں ٹھہب ثاقبہ سے تعلق پکڑ کر اپنے نور کے ساتھ یمین اور سیار کی طرف ان کو چلاتے ہیں۔اور اس بات میں تو کسی فلسفی کو کلام نہیں کہ جو کچھ کا ئنات الجو یا زمین میں ہوتا ہے علل ابتدائیہ ان کے نجوم اور تاثیرات سماویہ ہی ہوتی ہیں۔ہاں اس دوسرے دقیق بھید کو ہر یک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ نجوم کے قولیٰ فرشتوں سے فیضیاب ہیں۔اس بھید کو اوّل قرآن کریم نے ظاہر فرمایا اور پھر عارفوں کو اس طرف توجہ پیدا ہوئی۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۷ تا ۱۴۳ حاشیه ) ہر یک چیز جس پر نفس کا نام اطلاق پاسکتا ہے اس کی فرشتے حفاظت کرتے ہیں۔پس بموجب اس آیت کے نفوس کو اکب کی نسبت بھی یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ کل ستارے کیا سورج کیا چاند کیا زحل کیا مشتری ملائک کی زیر حفاظت ہیں یعنی ہر ایک کے کے لئے سورج اور چاند وغیرہ میں سے ایک ایک فرشتہ مقرر ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے کاموں کو احسن طور پر چلاتا ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۷۷ حاشیہ ) اگر چه ملائک جسمانی آفات سے بھی بچاتے ہیں لیکن اُن کا بچانا روحانی طور پر ہی ہے۔مثلاً ایک شخص ایک گرنے والی دیوار کے نیچے کھڑا ہے تو یہ تو نہیں کہ فرشتہ اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اُس کو دور لے جائے گا بلکہ اگر اس شخص کا اس دیوار سے بچنا مقدر ہے تو فرشتہ اس کے دل میں الہام کر دے گا کہ یہاں سے جلد کھسکنا چاہئے لیکن ستاروں اور عناصر وغیرہ کی حفاظت جسمانی ہے۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۹۹ حاشیہ نوٹ ) قادر مطلق نے دنیا کے حوادث کو صرف اسی ظاہری سلسلہ تک محصور اور محدود نہیں کیا بلکہ ایک باطنی