حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 628
۶۲۸ اب جبکہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے رو سے یہ بات نہایت صفائی سے ثابت ہو گئی کہ نظام روحانی کے لئے بھی نظام ظاہری کی طرح مؤثرات خارجیہ ہیں جن کا نام کلام الہی میں ملائک رکھا ہے تو اس بات کا ثابت کرنا باقی رہا کہ نظام ظاہری میں بھی جو کچھ ہو رہا ہے ان تمام افعال اور تغیرات کا بھی انجام اور انصرام بغیر فرشتوں کی شمولیت کے نہیں ہوتا۔سومنقولی طور پر تو اس کا ثبوت ظاہر ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کا نام مدبرات اور مقسمات امر رکھا ہے۔اور ہر یک عرض اور جو ہر کے حدوث اور قیام کا وہی موجب ہیں۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو بھی وہی اٹھائے ہوئے ہیں جیسا کہ آیت إِن كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ سے کلی طور پر فرشتوں کا تقرر ہر یک چیز پر ثابت ہوتا ہے۔اور نیز قرآن کریم کی آیت مندرجہ ذیل بھی اس پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔وَانْشَقَّتِ السَّمَاءِ فَهِيَ يَوْمَدٍ وَاهِيَةٌ۔وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَابِهَا وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبَّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَبِذٍ ثَمُنِيَّةٌ - سے یعنی جب قیامت واقع ہوگی تو آسمان پھٹ جائے گا اور ڈھیلا اور شست ہو جائے گا اور اس کی قوتیں جاتی رہیں گی۔کیونکہ فرشتے جو آسمان اور آسمانی اجرام کے لئے جان کی طرح تھے وہ سب تعلقات کو چھوڑ کر کناروں پر چلے جائیں گے اور اس دن خدا تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے سر پر اور کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔اس آیت کی تفسیر میں شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں کہ در حقیقت آسمان کی بقا باعث ارواح کے ہے یعنی ملائک کے جو آسمان اور آسمانی اجرام کے لئے بطور روحوں کے ہیں۔اور جیسے رُوح بدن کی محافظ ہوتی ہے اور بدن پر تصرف رکھتی ہے اسی طرح بعض ملائک آسمان اور آسمانی اجرام پر تصرف رکھتے ہیں اور تمام اجرام سماوی اُن کے ساتھ ہی زندہ ہیں اور انہی کے ذریعہ سے صدور افعال کو اکب ہے۔پھر جب وہ ملائک جان کی طرح اس قالب سے نکل جائیں گے تو آسمان کا نظام اُن کے نکلنے سے درہم برہم ہو جائے گا جیسے جان کے نکل جانے سے قالب کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔پھر ایک اور آیت قرآن کریم کی بھی اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے۔اور وہ یہ ہے وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَهَا رُجُوْمًا لِلشَّيطين - سورۃ الملک الحجز و نمبر ۲۹ یعنی ہم نے سماء الدنیا کو ستاروں کے ساتھ زینت دی ہے اور ستاروں کو ہم نے رجم شیاطین کے لئے ذریعہ ٹھہرایا ہے۔اور پہلے اس سے نص قرآنی سے ثابت ہو چکا ہے کہ آسمان سے زمین تک ہر یک امر کے مقسم اور مد بر فرشتے ہیں اور اب یہ قول اللہ جلّ شانہ کا کہ مہب ثاقبہ کو چلانے الطارق:۵ الحاقة : ۱۸،۱۷ الملک :