حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 627 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 627

۶۲۷ كنهما ذالك خير واقرب للتقوى۔وقد وصفهم الله بالقائمين والساجدين والصافين والمسبحين و الثابتين فى مقامات معلومة وجعل هذه الصفات لهم دائمة غَيْرُ منفكة وخصهم بها۔فكيف يجوز ان يترك الملائكة سجودهم و قيامهم و يقصموا صفوفهم و يذروا تسبيحهم و تقديسهم و يتنزلوا من مقاماتهم ويهبطوا الارض ويخلوا السموات العلى بل هم يتحركون حال كونهم مستقرين في مقاماتهم كالملك الذي على العرش استوى۔وتعلمون ان الله ينزل الى السماء في اخر كل ليل ولا يقال أنه يترك العرش ثم يصعد اليه فى اوقات اخرى فکذالک الملائكة الذين كانوا في صبغة صفات ربهم كمثل انصباغ الظل بصبغة اصله لانعرف حقيقتها و نؤمن بها۔كيف نشبه احوالهم باحوال انسان نعرف حقيقة صفاته و حدود خواصه و سکناته وحركاته و قد منعنا الله من هذا و قال : وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبَّكَ إِلَّا هُوَ - فاتقوا الله يا ارباب النهى۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۸۴ تا ۳۸۷) حقیقت کی جستجو میں نہ پڑو یہ بہتر ہے اور تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ وصف رکھا ہے کہ وہ اس کے حضور میں قیام کرنے والے ہیں سجدے کرنے والے ہیں۔صف بند کھڑے ہوئے ہیں۔تسبیح میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے مقامات معلومہ پر ثابت قدم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ صفات دائمی بنائی ہیں جو کبھی ختم ہونے والی نہیں اور ان صفات کو اس نے فرشتوں سے مخصوص کیا ہے۔پس یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ فرشتے اپنی سجدہ گاہوں اور قیام گاہوں کو چھوڑ دیں اور اپنی صفوں کو توڑ دیں اور اپنی تسبیح و تقدیس کو چھوڑ دیں اور اپنے مقامات معلومہ سے نزول کرتے ہوئے زمین پر اتر آئیں۔اور بلند آسمانوں کو خالی چھوڑ دیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فرشتے اپنے مقامات معلومہ پر قائم رہتے ہوئے حرکت کرتے ہیں اس مالک خدا کی طرح جو عرش پر متمکن ہے۔اور تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ سماء دنیا پر ہر رات کے آخر پر نازل ہوتا ہے اور یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ عرش کو چھوڑ دیتا ہے اور پھر دوسرے اوقات میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔یہی حال فرشتوں کا ہے جو کہ اپنے رب کی صفات کے رنگ میں ایسے رنگین ہیں جیسے ظل اصل وجود کے رنگ میں رنگین ہوتا ہے ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں۔ہم ان (فرشتوں) کے حالات کو انسان کے حالات سے مشابہ کس طرح قرار دے سکتے ہیں جبکہ ہم اس کی صفات کی حقیقت اور اس کی حدود کی خاصیت اور اس کی حرکات وسکنات کو جانتے ہیں اور اس بات سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع فرمایا ہے اور فرمایا وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ يعنى تیرے رب کی افواج کو صرف وہی جانتا ہے۔پس اے عقلمند و ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔