حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 626 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 626

۶۲۶ اسی طرح ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو آسمان سے خالی کر دیں تو ہم بشوق اس ثبوت کو سنیں گے۔اور اگر در حقیقت ثبوت ہوگا تو ہم اس کو قبول کر لیں گے۔جہاں تک ہمیں معلوم ہے فرشتوں کا وجود ایمانیات میں داخل ہے۔خدا تعالیٰ کا نزول سماء الدنیا کی طرف اور فرشتوں کا نزول دونوں ایسی حقیقتیں ہیں جو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ہاں کتاب اللہ سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ خلق جدید کے طور پر زمین پر فرشتوں کا ظہور ہو جاتا ہے۔وحیہ کلبی کی شکل میں جبرائیل کا ظاہر ہونا خلق جدید تھا یا کچھ اور تھا۔پھر کیا یہ ضرور ہے کہ پہلی خلق کو نابود کر لیں۔پھر خلق جدید کے قائل ہوں۔بلکہ پہلا خلق بجائے خود آسمان پر ثابت اور قائم ہے اور دوسر اخلق خدا تعالیٰ کی وسیع قدرت کا ایک نتیجہ ہے کیا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید ہے کہ ایک وجود دو جگہ دو جسموں سے دکھاوے۔حاشا و کل ہرگز نہیں اَلَمْ تَعْلَمُ اَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔(اشتہار انعامی بنام شیخ محمد حسین بطالوی مشمولہ ستر الخلافہ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴ ۴۱ ، ۴۱۵ ) واعتقد أن لله ملائكة مقربين۔لكلّ واحدٍ منهم مقام معلوم لا ينزل احد من مقامه ولا يرقى ونزولهم الذى قدجاء في القرآن ليس كنزول الانسان من الاعلى الى الاسفل ولا صعودهم كصعود الناس من الاسفل الى الاعلى لان في نزول الانسان تحوّل من المكان و رائحة من شق الانفس و اللغوب ولا يمسهم لغب ولاشق ولا يتطرق اليهم تغير فلا تقيسوا نزولهم و صعودهم باشياء اخرى بل نزولهم و صعودهم بصبغ نزول الله و صعوده من العرش الى سماء الدنيا۔لان الله ادخل وجود هم في الايـمـانـيـات۔وقال مَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبَّكَ إِلَّاهُوَ۔فآمنوا بنزولهم وصعودهم ولا تدخلوا في میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا مقام معلوم ہے نہ تو ان میں سے کوئی اپنے مقام سے نیچے آ سکتا ہے اور نہ ہی اوپر جاتا ہے اور ان کا وہ نزول جس کا قرآن میں ذکر آیا ہے وہ انسان کے اوپر سے نیچے آنے کی طرح نہیں اور نہ ہی ان کا صعود یعنی اوپر چڑھنا لوگوں کے نیچے سے اوپر چڑھنے کی طرح ہے کیونکہ انسان کے نزول میں اپنی جگہ سے ہٹنا لازم ہے اور یہ اپنے آپ کو مشقت اور تھکاوٹ میں ڈالنے کی ایک قسم ہے، جبکہ فرشتوں کو نہ تو تھکاوٹ ہوتی ہے اور نہ ہی وہ تکلیف میں پڑتے ہیں اور نہ ہی حالات کی تبدیلی ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔پس ان کے نزول وصعود کو دیگر اشیاء پر قیاس نہ کرو بلکہ فرشتوں کا نزول اور صعود اللہ تعالیٰ کے عرش سے سماء الدنیا کی طرف نزول اور سماء الدنیا سے عرش کی طرف صعود کے رنگ میں رنگین ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وجود کو تسلیم کرنا ایمانیات میں شامل فرمایا ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی فوجوں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔پس ان کے نزول وصعود پر ایمان لاؤ اور ان کی المدثر : ٣٢