حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 625
۶۲۵ جاہل ایک دہقان بھی اس قدر تو ضرور یقین رکھتا ہوگا کہ چاند کی روشنی پھلوں کے موٹا کرنے کے لئے اور سورج کی دھوپ ان کو پکانے اور شیریں کرنے کے لئے اور بعض ہوا میں بکثرت پھل آنے کے لئے بلاشبہ مؤثر ہیں۔اب جبکہ ظاہری سلسلہ کا ئنات کا ان چیزوں کی تاثیرات مختلفہ سے تربیت پا رہا ہے تو اس میں کیا شک ہوسکتا ہے کہ باطنی سلسلہ پر بھی باز نہ تعالیٰ وہ نفوس نو رانیہ اثر کر رہی ہیں جن کا اجرام نورانیہ سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسے جان کو جسم سے ہوتا ہے۔اب اس کے بعد یہ بھی جاننا چاہئے کہ اگر چہ بظاہر یہ بات نہایت دور از ادب معلوم ہوتی ہے کہ خدائے تعالیٰ اور اُس کے مقدس نبیوں میں افاضہ انوار وحی کے لئے کوئی اور واسطہ تجویز کیا جائے لیکن ذرا غور کرنے سے بخوبی سمجھ آ جائے گا کہ اس میں کوئی سوء ادب کی بات نہیں بلکہ سراسر خدا تعالیٰ کے اس عام قانون کے مطابق ہے جو دنیا کی ہر یک چیز کے متعلق کھلے کھلے طور پر مشہو دو محسوس ہو رہا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بھی اپنے ظاہری جسم اور ظاہری قومی کے لحاظ سے انہی وسائط کے محتاج ہیں اور نبی کی آنکھ بھی گو کیسی ہی نورانی اور بابرکت آنکھ ہے مگر پھر بھی عوام کی آنکھوں کی طرح آفتاب یا اس کے کسی دوسرے قائم مقام کے بغیر کچھ دیکھ نہیں سکتے اور بغیر توسط ہوا کے کچھ سن نہیں سکتے لہذا یہ بات بھی ضروری طور پر ماننی پڑتی ہے کہ نبی کی روحانیت پر بھی ان سیارات کے نفوس نورانیہ کا ضرور اثر پڑتا ہوگا بلکہ سب سے زیادہ اثر پڑتا ہوگا کیونکہ جس قدر استعداد صافی اور کامل ہوتی ہے اسی قدراثر بھی صافی اور کامل طور پر پڑتا ہے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق ایک ایک رُوح رکھتے ہیں جن کو نفوس کو اکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں اور جیسے کواکب اور سیاروں میں باعتبار ان کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں جو زمین کی ہر یک چیز پر حسب استعداد اثر ڈال رہے ہیں ایسا ہی اُن کے نفوس نورانیہ میں بھی انواع اقسام کے خواص ہیں جو باذنِ حکیم مطلق کائنات الارض کے باطن پر اپنا اثر ڈالتے ہیں اور یہی نفوس نورانیہ کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہو جاتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ تقریر از قبیل خطابیات نہیں بلکہ یہ وہ صداقت ہے جو طالب حق اور حکمت کو ضرور ماننی پڑے گی۔توضیح مرام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۶ تا ۷۲ ) واضح رہے کہ فرشتوں کے نزول سے بھی ہمیں انکار نہیں۔اگر کوئی ثابت کر دے کہ فرشتوں کا نزول