حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 620 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 620

۶۲۰ ثابت ہوتا ہے اور گو ہم پر اُن کی گنہ کھل نہ سکے اور کھلنا کچھ ضرور بھی نہیں لیکن اجمالی طور پر قانون قدرت کے توافق اور اتحاد پر نظر کر کے اُن کا وجود ہمیں ماننا پڑتا ہے کیونکہ جس حالت میں ہم نے بطیب خاطر ظاہری قانون کو مان لیا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ہم اسی طرز اور طریق پر باطنی قانون کو تسلیم نہ کریں۔بے شک ہمیں باطنی قانون بھی اسی طرح قبول کرنا پڑے گا کہ جس طرح ہم نے ظاہری قانون کو مان لیا۔یہی سر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں بعض جگہ ان دونوں قانونوں کو مشترک الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔وَالذُّرِيتِ ذَرُوا فَالْحَمِلتِ وِقْرًا فَالْجَرِيتِ يُسْرًا۔فَالْمُقَسمتِ أَمْرًا لے۔یعنی ان ہواؤں کی قسم ہے جو سمندروں اور دوسرے پانیوں سے بخارات کو ایسا جدا کرتی ہیں جو حق جدا کرنے کا ہے۔پھر اُن ہواؤں کی قسم ہے جو ان گراں بار بخارات کو حمل دار عورتوں کی طرح اپنے اندر لے لیتی ہیں۔پھر اُن ہواؤں کی قسم ہے جو بادلوں کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے چلتی ہیں۔پھر ان فرشتوں کی قسم ہے جو در پردہ ان تمام امور کے منصرم اور انجام دہ ہیں۔یعنی ہوائیں کیا چیز ہیں اور کیا حقیقت رکھتی ہیں جو خود بخود بخارات کو سمندروں میں سے اٹھاویں اور بادلوں کی صورت بناویں اور عین محل ضرورت پر جا کر برساویں۔اور مقسم امور بہنیں یہ تو در پردہ ملائک کا کام ہے۔سوخدا تعالیٰ نے ان آیات میں اول حکماء ظاہر کے طور پر بادلوں کے برسنے کا سبب بتلایا اور بیان فرمایا کہ کیونکر پانی بخار ہو کر بادل اور ابر ہو جاتا ہے اور پھر آخری فقرہ میں یعنی فَالْمُقَسمتِ أَمْرًا میں حقیقت کو کھول دیا اور ظاہر کر دیا کہ کوئی ظاہر بین یہ خیال نہ کرے کہ صرف جسمانی علل اور معلولات کا سلسلہ نظام ربانی کے لئے کافی ہے بلکہ ایک اور سلسلہ علل روحانیہ کا اس جسمانی سلسلہ کے نیچے ہے جس کے سہارے سے یہ ظاہری سلسلہ جاری ہے۔اور پھر ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔وَالْمُرْسَلَتِ عُرُفًا فَالْعُصِفْتِ عَصْفًا وَالنُّشِرَاتِ نَشْرًا فَالْفَرِقْتِ فَرْقًا۔فَالْمُلْقِيتِ ذِكْرًا۔یعنی قسم ہے اُن ہواؤں کی اور اُن فرشتوں کی جو نرمی سے چھوڑے گئے ہیں اور قسم ہے ان ہواؤں کی اور اُن فرشتوں کی جو زور اور شدت کے ساتھ چلتے ہیں۔اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں اور ان فرشتوں کی جو ان بادلوں پر مؤکل ہیں۔اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو ہر یک چیز کو جو معرض ذکر میں آجائے کانوں تک پہنچاتی ہیں۔اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو الہی کلام کو دلوں تک پہنچاتے ہیں۔اس طرح خدا تعالیٰ نے آیت فَالْمُدَتِرَاتِ أَمْرًا میں فرشتوں اور الثريت : ۵۲ ۲ المرسلات :۶۲۲ تا تا النازعات: