حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 619 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 619

۶۱۹ مبدء فیض سے کچھ مناسبت نہیں رکھتیں اور اسی وجہ سے ایسی چیزوں کی ضرورت پڑی جو مِنُ وَجهِ خدا تعالیٰ سے مناسبت رکھتی ہوں اور من وجہ اس کی مخلوق سے۔تا اس طرف سے فیضان حاصل کریں اور اس طرف پہنچا دیں۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۱ ۱ تا ۱۷۰ حاشیہ) فرشتوں کا وجود ماننے کے لئے نہایت سہل اور قریب راہ یہ ہے کہ ہم اپنی عقل کی توجہ اس طرف مبذول کریں کہ یہ بات طے شدہ اور فیصل شدہ ہے کہ ہمارے اجسام کی ظاہری تربیت اور تکمیل کے لئے اور نیز اس کام کے لئے کہ تا ہمارے ظاہری حواس کے افعال مطلو بہ کما ینبغی صادر ہوسکیں خدا تعالیٰ نے یہ قانون قدرت رکھا ہے کہ عناصر اور شمس و قمر اور تمام ستاروں کو اس خدمت میں لگا دیا ہے کہ وہ ہمارے اجسام اور قومی کو مدد پہنچا کر اُن سے بوجہ احسن ان کے تمام کام صادر کرا دیں۔اور ہم ان صداقتوں کے ماننے سے کسی طرف بھاگ نہیں سکتے کہ مثلاً ہماری آنکھ اپنی ذاتی روشنی سے کسی کام کو بھی انجام نہیں دے سکتی جب تک آفتاب کی روشنی اُس کے ساتھ شامل نہ ہو۔اور ہمارے کان محض اپنی قوت شنوائی سے کچھ بھی سُن نہیں سکتے جب تک کہ ہوا متکلیف بصوت ان کی ممد و معاون نہ ہو۔پس کیا اس سے یہ ثابت نہیں کہ خدا تعالیٰ کے قانون نے ہمارے قومی کی تکمیل اسباب خارجیہ میں رکھی ہے اور ہماری فطرت ایسی نہیں ہے کہ اسباب خارجیہ کی مدد سے مستغنی ہو۔اگر غور سے دیکھو تو نہ صرف ایک دو بات میں بلکہ ہم اپنے تمام حواس تمام قومی تمام طاقتوں کی تعمیل کے لئے خارجی امدادات کے محتاج ہیں۔پھر جبکہ یہ قانون اور انتظام خدائے واحد لاشریک کا جس کے کاموں میں وحدت اور تناسب ہے ہمارے خارجی قومی اور حواس اور اغراض جسمانی کی نسبت نہایت شدت اور استحکام اور کمال التزام سے پایا جاتا ہے تو پھر کیا یہ بات ضروری اور لازمی نہیں کہ ہماری روحانی تکمیل اور روحانی اغراض کے لئے بھی یہی انتظام ہو۔تا دونوں انتظام ایک ہی طرز پر واقع ہو کر صانع واحد پر دلالت کریں۔اور خود ظاہر ہے کہ جس حکیم مطلق نے ظاہری انتظام کی یہ بنا ڈالی ہے اور اسی کو پسند کیا ہے کہ اجرام سماوی اور عناصر وغیرہ اسباب خارجیہ کے اثر سے ہمارے ظاہر اجسام اور قومی اور حواس کی تعمیل ہو۔اس حکیم قادر نے ہماری روحانیت کے لئے بھی یہی انتظام پسند کیا ہو گا۔کیونکہ وہ واحد لاشریک ہے اور اس کی حکمتوں اور کاموں میں وحدت اور تناسب ہے اور دلائل انیہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔سو وہ اشیاء خارجیہ جو ہماری روحانیت پر اثر ڈال کر شمس اور قمر اور عناصر کی طرح جو اغراض جسمانی کے لئے محمد ہیں ہماری اغراض روحانی کو پورا کرتی ہیں۔انہی کا نام ہم ملائک رکھتے ہیں۔پس اس تقریر سے وجود ملائک کا بوجہ احسن