حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 604 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 604

۶۰۴ بر ہمو وغیرہ نے اس کے مقابلہ پر دم بھی نہ مارا تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ بغیر پیش کرنے کسی ایسی جدید صداقت کے کہ جو قرآن شریف سے باہر رہ گئی ہو۔یونہی دیوانوں اور سودائیوں کی طرح اوہام باطلہ پیش کرنا جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کو راستبازوں کی طرح حق کا تلاش کرنا منظور ہی نہیں۔بلکہ نفس امارہ کو خوش رکھنے کے لئے اس فکر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح خدا کے پاک کلام احکام سے بلکہ خدا ہی سے آزادگی حاصل کر لیں۔اسی آزادگی کے حصول کی غرض سے خدا کی کچی کتاب سے جس کی حقانیت اظہر من الشمس ہے ایسے منحرف ہورہے ہیں کہ نہ متکلم بن کر شائستہ طریق پر کلام کرتے ہیں اور نہ سامع ہونے کی حالت میں کسی دوسرے کی بات سنتے ہیں۔بھلا کوئی اُن سے پوچھے کہ کب کسی نے کوئی صداقت دینی قرآن کے مقابلہ پر پیش کی جس کا قرآن نے کچھ جواب نہ دیا اور خالی ہاتھ بھیج دیا۔جس حالت میں تیرہ سو برس سے قرآن شریف بآواز بلند دعوی کر رہا ہے کہ تمام دینی صداقتیں اُس میں بھری پڑی ہیں تو پھر یہ کیسا خبث طینت ہے کہ امتحان کے بغیر ایسی عالی شان کتاب کو ناقص خیال کیا جائے۔اور یہ کس قسم کا مکابرہ ہے کہ نہ قرآن شریف کے بیان کو قبول کریں اور نہ اُس کے دعوی کو تو ڑ کر دکھلا ئیں۔سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے لبوں پر تو ضرور کبھی کبھی خدا کا ذکر آ جاتا ہے مگر اُن کے دل دنیا کی گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔اگر کوئی دینی بحث شروع بھی کریں تو اس کو مکمل طور پرختم کرنا نہیں چاہتے بلکہ نا تمام گفتگو کا ہی جلدی سے گلا گھونٹ دیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی صداقت ظاہر ہو جائے اور پھر بے شرمی یہ کہ گھر میں بیٹھ کر اس کامل کتاب کو ناقص بیان کرتے ہیں جس نے بوضاحت تمام فرما دیا۔اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمُ نِعمتى الجز ء نمبر 4۔یعنی آج میں نے اس کتاب کے نازل کرنے سے علم دین کو مرتبہ کمال تک پہنچا دیا اور اپنی تمام نعمتیں ایمان داروں پر پوری کر دیں۔اے حضرات! کیا تمہیں کچھ بھی خدا کا خوف نہیں؟ کیا تم ہمیشہ اسی طرح جیتے رہو گے؟ کیا ایک دن خدا کے حضور میں اس جھوٹے منہ پر لعنتیں نہیں پڑیں گی ؟ اگر آپ لوگ کوئی بھاری صداقت لئے بیٹھے ہیں جس کی نسبت تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے کمال جانفشانی اور عرق ریزی اور موشگافی سے اس کو پیدا کیا ہے اور جو تمہارے گمان باطل میں قرآن شریف اس صداقت کے بیان کرنے سے قاصر ہے تو تمہیں قسم ہے کہ سب کاروبار چھوڑ کر وہ صداقت ہمارے روبرو پیش کرو تا ہم تم کو قرآن شریف میں سے نکال کر دکھلا دیں۔المائدة : ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۲۳ تا ۲۲۷ حاشیہ نمبر۱۱)