حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 603
۶۰۳ کر کے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے۔اور پھر اُسی جامعیت کے بارہ میں فرمایا وَ كُلِّ شَيْءٍ فَصَّلْنَهُ تَفْصِيلا الجز و نمبر ۱۵ یعنی اس کتاب میں ہر یک علم دین کو بہت تفصیل تمام کھول دیا ہے اور اس کے ذریعہ سے انسان کی جزئی ترقی نہیں بلکہ یہ وہ وسائل بتلاتا ہے اور ایسے علوم کا ملہ ع فرماتا ہے جن سے کلی طور پر ترقی ہو اور پھر فرمایا وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ " الجزء نمبر ۱۴ - یعنی یہ کتاب ہم نے اس لئے تجھ پر نازل کی کہ تا ہر یک دینی صداقت کو کھول کر بیان کر دے۔اور تا یہ بیان کامل ہمارا ان کے لئے جو اطاعت الہی اختیار کرتے ہیں موجب ہدایت و رحمت ہو۔اور پھر فرمایا۔اتر - كتُبُ أَنْزَلْنَهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ کے الجزء نمبر ۱۳ یعنی یہ عالی شان کتاب ہم نے تجھ پر نازل کی تا کہ تو لوگوں کو ہر یک قسم کی تاریکی سے نکال کر نور میں داخل کرے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جس قدر انسان کے نفس میں طرح طرح کے وساوس گذرتے ہیں اور شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔اُن سب کو قرآن شریف دُور کرتا ہے اور ہر ایک طور کے خیالات فاسدہ کو مٹاتا ہے اور معرفت کامل کا نور بخشتا ہے یعنی جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور اس پر یقین لانے کے لئے معارف و حقائق درکار ہیں سب عطا فرماتا ہے اور پھر فرمایا مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرى وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَ هُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ" الجزو نمبر ۱۳۔یعنی قرآن ایسی کتاب نہیں کہ انسان اس کو بنا سکے بلکہ اس کے آثارِ صدق ظاہر ہیں کیونکہ وہ پہلی کتابوں کو سچا کرتا ہے یعنی کتب سابقہ انبیاء میں جو اس کے بارہ میں پیشینگوئیں موجود تھیں وہ اس کے ظہور سے بہ پایۂ صداقت پہنچ گئیں اور جن عقائد حقہ کے بارہ میں ان کتابوں میں دلائل واضح موجود نہ تھیں اُن کے قرآن نے دلائل بتلائے اور ان کی تعلیم کو مرتبۂ کمال تک پہنچایا۔اس طور پر ان کتابوں کو سچا کیا جس سے خود سچائی اُس کی ثابت ہوتی ہے۔دوسرے نشانِ صدق یہ کہ ہر یک صداقت دینی کو وہ بیان کرتا ہے اور تمام وہ امور بتلاتا ہے کہ جو ہدایت کامل پانے کے لئے ضروری ہیں۔اور یہ اس لئے نشان صدق ٹھہرا کہ انسان کی طاقت سے یہ بات باہر ہے کہ اس کا علم ایسا وسیع و محیط ہو جس سے کوئی دینی صداقت وحقائق دقیقہ باہر نہ رہیں۔غرض ان تمام آیات میں خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ قرآن شریف ساری صداقتوں کا جامع ہے۔اور یہی بزرگ دلیل اس کی حقانیت پر ہے۔اور اس دعویٰ پر صد ہا برس بھی گذر گئے پر آج تک کسی بنی اسرآئیل :۱۳ ۲ النحل:۹۰ ابراهیم ۲ يوسف: ١١٢