حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 602
۶۰۲ إِنَّهُ لَقَوْلُ فَضْلُّ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ے یعنی علم معاد میں جس قدر تنازعات اُٹھیں سب کا فیصلہ یہ کتاب کرتی ہے بے سود اور بیکار نہیں ہے اور پھر فرمایا وَ مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ الجزو نمبر ۱۴ یعنی ہم نے اس لئے کتاب کو نازل کیا ہے تا جو اختلافات عقول ناقصہ کے باعث سے پیدا ہو گئے ہیں یا کسی عمداً افراط و تفریط کرنے سے ظہور میں آئے ہیں ان سب کو دُور کیا جائے اور ایمانداروں کے لئے سیدھا راستہ بتلا یا جاوے۔اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو فساد بنی آدم کے مختلف کلاموں سے پھیلا ہے اس کی اصلاح بھی کلام ہی پر موقوف ہے۔یعنی اس بگاڑ کے درست کرنے کے لئے جو بے ہودہ اور غلط کلاموں سے پیدا ہوا ہے ایسے کلام کی ضرورت ہے کہ جو تمام عیوب سے پاک ہو کیونکہ یہ نہایت بدیہی بات ہے کہ کلام کا ر ہنزدہ کلام ہی کے ذریعہ سے راہ راست پر آ سکتا ہے صرف اشارات قانونِ قدرت تنازعات کلامیہ کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور نہ گمراہ کو اس کی گمراہی پر بصفائی تمام ملزم کر سکتے ہیں۔جیسے اگر جج نہ مدعی کی وجوہات بہ تصریح قلمبند کرے نہ مدعا علیہ کے عذرات کو بدلائل قاطعہ تو ڑے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ صرف اس کے اشارات سے فریقین اپنے اپنے سوالات و اعتراضات و وجوہات کا جواب پالیں اور کیونکر ایسے مبہم اشارات پر جن سے کسی فریق کا باطمینان کامل رفع عذر نہیں ہوا حکم آخیر مترتب ہوسکتا ہے۔اسی طرح خدا کی حجت بھی بندوں پر تب ہی پوری ہوتی ہے کہ جب اس کی طرف سے یہ التزام ہو کہ جو لوگ غلط تقریروں کے اثر سے طرح طرح کی بد عقیدگی میں پڑ گئے ہیں ان کو بذریعہ اپنی کامل و صحیح تقریر کے غلطی پر مطلع کرے۔اور مدلل اور واضح بیان سے اُن کا گمراہ ہونا ان کو جتلا دے تا اگر اطلاع پا کر پھر بھی وہ باز نہ آویں اور غلطی کو نہ چھوڑیں تو سزا کے لائق ہوں۔خدائے تعالیٰ ایک کو مجرم ٹھہرا کر پکڑے اور سزا دینے کو طیار ہو جائے مگر بیان واضح سے اس کے دلائل بریت کا غلط ہونا ثابت نہ کرے۔اور اس کے دلی شبہات کو اپنی کھلی کلام سے نہ مٹادے۔کیا یہ اس کا منصفانہ حکم ہوگا ؟ پھر اسی کی طرف دوسری آیت میں بھی اشارہ فرمایا هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ کالجز و نمبر ۲۔یعنی قرآن میں تین صفتیں ہیں۔اوّل یہ کہ جو علوم دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے اُن کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ اجمال چلا آتا تھا اُن کی تفصیل بیان کرتا ہے۔تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازعہ پیدا ہو گیا تھا اُن میں قولِ فیصل بیان الطارق :۱۵،۱۴ النحل : ۶۵ البقرة : ١٨٦