حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 601
۶۰۱ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ) ( سورة الحجر الجزو۱۴) یعنی اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ رہیں گے۔ سو تیرہ سو برس سے اس پیشینگوئی کی صداقت ثابت ہو رہی ہے۔ اب تک قرآن شریف میں پہلی کتابوں کی طرح کوئی مشر کا نہ تعلیم ملنے نہیں پائی اور آئندہ بھی عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ اُس میں کسی نوع کی مشر کا نہ تعلیم مخلوط ہو سکے کیونکہ لاکھوں مسلمان اس کے حافظ ہیں۔ ہزار ہا اس کی تفسیریں ہیں۔ پانچ وقت اس کی آیات نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں۔ ہر روز اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اسی طرح تمام ملکوں میں اس کا پھیل جانا ، کروڑ ہانسے اس کے دنیا میں موجود ہونا، ہر یک قوم کا اس کی تعلیم سے ا سے مطلع ہو جانا یہ سب امور ایسے ہیں کہ جن کے لحاظ سے عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہے کہ آئندہ بھی کسی نوع کا تغیر اور تبدل قرآن شریف میں واقع ہونا ممتنع اور محال ہے۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار تخصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۰۰ تا ۱۰۲ حاشیہ نمبر ۹ ) وسوستہ ہفتم کسی کتاب پر علم الہی کی ساری صداقتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔ پھر کیونکر امید کی جائے کہ ناقص کتا بیں کامل معرفت تک پہنچا دیں گی۔ جواب ۔ یہ وسوسہ اس وقت قابل التفات ہوتا کہ جب برہم سماج والوں میں سے کوئی صاحب اپنی عقل کے زور سے خدا شناسی یا کسی دوسرے امر معاد کے متعلق کوئی ایسی جدید صداقت نکالتا جس کا قرآن شریف میں کہیں ذکر نہ ہوتا۔ اور ایسی حالت میں بلا شبہ حضرات برہمو بڑے ناز سے کہہ سکتے تھے کہ علم معاد اور خدا شناسی کی ساری صداقتیں کتاب الہامی میں مندرج نہیں بلکہ فلاں فلاں صداقت باہر رہ گئی ہے جس کو ہم نے دریافت کیا ہے۔ اگر ایسا کر کے دکھلاتے تب تو شاید کسی نادان کو کوئی دھو کہ بھی دے سکتے۔ سکتے ۔ پر جس حالت میں قرآن شریف کھلا کھلی دعو کھلا کھلی دعویٰ کر رہا ہے ۔ مَا فَرَّطْنَا ہے۔ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ کے الجزو نمبرے۔ یعنی کوئی صداقت علم اصداقت علم الہی کے متعلق جو انسان کے لئے ضروری ہے اس کتاب سے رسول باہر نہیں۔ اور پھر فرمایا يَتْلُوْا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ الجزو نمبر ۳۰ یعنی خدا کار پاک صحیفے پڑھتا ہے جن میں تمام کامل صداقتیں اور علوم اولین و آخرین درج ہیں ۔ اور پھر فرمایا کتب أُحْكِمَتْ أَيْتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ الجزو نمبر 11۔ یعنی اس کتاب میں دو خوبیاں ہیں ۔ ایک تو یہ کہ حکیم مطلق نے محکم اور مدلل طور پر یعنی علوم حکمیہ کی طرح اس کو بیان کیا ہے بطور کتھا یا قصہ نہیں ۔ دوسری یہ خوبی کہ اس میں تمام ضروریات علم معاد کی تفصیل کی گئی ہے۔ اور پھر فرمایا الحجر : ١٠ ٢ الانعام : ٣٩ البينة : ٣، ٤ هود : ۲