حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 51
۵۱ ۲۰۰۰ رکھا تا جس صلیب نے مسیح کو تو ڑا تھا اور اس کو زخمی کیا تھا دوسرے وقت میں مسیح اس کو تو ڑے۔مگر آسمانی نشانوں کے ساتھ نہ انسانی ہاتھوں کے ساتھ۔کیونکہ خدا کے نبی مغلوب نہیں رہ سکتے۔سوسنہ عیسوی کی بنیسویں صدی میں پھر خدا نے ارادہ فرمایا کہ صلیب کو مسیح کے ہاتھ سے مغلوب کرے لیکن جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دیئے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے۔چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے جس کو ر و ڈر گوپال بھی کہتے ہیں ( یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا ) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا اِن دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں۔اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے۔آریوں کا بادشاہ آریہ ورت کے محقق پنڈت بھی کرشن اوتار کا زمانہ یہی قرار دیتے ہیں اور اس زمانہ میں اس کے آنے کے منتظر ہیں گو وہ لوگ ابھی مجھ کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ زمانہ آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ مجھے شناخت کر لیں گے کیونکہ خدا کا ہاتھ انہیں دکھائے گا کہ آنے والا یہی ہے۔تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱ ۵ تا ۵۲۳) خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں بارہا مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ آریہ قوم میں کرشن نام ایک شخص جو گزرا ہے۔وہ خدا کے برگزیدوں اور اپنے وقت کے نبیوں میں سے تھا۔اور ہندوؤں میں اوتار کا لفظ در حقیقت نبی کے ہم معنی ہے۔اور ہندؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار آئے گا جو کرشن کے صفات پر ہو گا اور اُس کا بروز ہو گا اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔کرشن کی دوصفت میں ایک روڈ ریعنی درندوں اور سؤروں کو قتل کرنے والا یعنی دلائل اور نشانوں سے۔دوسرے گوپال یعنی گائیوں کو پالنے والا یعنی اپنے انفاس سے نیکیوں کا مددگار۔اور یہ دونوں صفتیں مسیح موعود کی صفتیں ہیں اور یہی دونوں صفتیں خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہیں۔تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۱۷ حاشیہ در حاشیہ ) میں ان گناہوں کے دور کرنے کے لئے جن سے زمین پر ہوگئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رُو سے میں وہی ہوں۔یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے