حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 596
۵۹۶ آؤ عیسائیو! ادھر آؤ نور حق دیکھو! راہ حق پاؤ جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ خالق ہے اُس کو یاد کرو یونہی مخلوق کو : بہکاؤ کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ کچھ تو خوف خدا کرو لوگو! کچھ تو لوگو خدا سے شرماؤ بقا نہیں پیارو کوئی اس میں رہا نہیں پیارو عیش دنیا سدا نہیں پیارو اس جہاں کو تو رہنے کی جا نہیں نہیں پیارو اے عزیزو! سنو کہ بے قرآں حق کو ملتا نہیں کبھی انساں جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں أن اس یار کی نظر ہی نہیں ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر کہ بناتا ہے عاشق دلبر مجھ سے اُس دلستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی یونہی امتحان سہی ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۹۸ تا ۳۰۰) قرآن عمیق حکمتوں سے پر ہے اور ہر ایک تعلیم میں انجیل کی نسبت حقیقی نیکی کے سکھلانے کے لئے آگے قدم رکھتا ہے بالخصوص بچے اور غیر متغیر خدا کے دیکھنے کا چراغ تو قرآن ہی کے ہاتھ میں ہے۔اگر وہ دنیا میں نہ آیا ہوتا تو خدا جانے دنیا میں مخلوق پرستی کا عدد کس نمبر تک پہنچ جاتا۔سوشکر کا مقام ہے کہ خدا کی وحدانیت جو زمین سے گم ہو گئی تھی دوبارہ قائم ہو گئی۔تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۸۲) قرآن شریف ایک ایسی پر حکمت کتاب ہے جس نے طب روحانی کے قواعد کلیہ کو یعنی دین کے اصول کو جو دراصل طب روحانی ہے طب جسمانی کے قواعد کلیہ کے ساتھ تطبیق دی ہے۔اور یہ تطبیق ایک ایسی لطیف ہے جو صد ہا معارف اور حقائق کے کھلنے کا دروازہ ہے۔اور سچی اور کامل تفسیر قرآن شریف کی وہی شخص کر سکتا ہے جو طب جسمانی کے قواعد کلیہ پیش نظر رکھ کر قرآن شریف کے بیان کردہ قواعد میں نظر ڈالتا ہے۔ایک دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتابیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طب