حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 592
۵۹۲ مفردات کا کامل دائرہ موجود تھا۔( من الرحمن۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵۰ تا ۱۵۲ حاشیه ) ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں۔کیونکہ اللہ جلّ شانہ فرماتا ہے وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانَا لِكُلِّ شَيْءٍ ے یعنی ہم نے تیرے پر وہ کتاب اتاری ہے جس میں ہر ایک چیز کا بیان ہے اور پھر فرماتا ہے مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ کے یعنی ہم نے اس کتاب سے کوئی چیز باہر نہیں رکھی لیکن ساتھ اس کے یہ بھی میرا اعتقاد ہے کہ قرآن کریم سے تمام مسائل دینیہ کا استخراج و استنباط کرنا اور اس کی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الہی قادر ہونا ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں بلکہ یہ خاص طور پر ان کا کام ہے جو وحی الہی سے بطور نبوت یا بطور ولایت عظمی مدد دیئے گئے ہوں۔سو ایسے لوگوں کے لئے جو استخراج و استنباط معارف قرآنی پر بعلت غیر ملہم ہونے کے قادر نہیں ہو سکتے یہی سیدھی راہ ہے کہ وہ بغیر قصد استخراج و استنباط قرآن کے ان تمام تعلیمات کو جو سنن متوارثہ متعاملہ کے ذریعہ سے ملی ہیں بلا تامل و توقف قبول کر لیں اور جو لوگ وحی ولایت عظمیٰ کی روشنی سے منور ہیں اور إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کے گروہ میں داخل ہیں۔اُن سے بلاشبہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً دقائق مخفیہ قرآن کے اُن پر کھولتا رہتا ہے اور یہ بات اُن پر ثابت کر دیتا ہے کہ کوئی زائد تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز نہیں دی بلکہ احادیث صحیحہ میں مجملات وارشادات قرآن کریم کی تفصیل ہے۔سو اس معرفت کے پانے سے اعجاز قرآن کریم اُن پر کھل جاتا ہے اور نیز ان آیات بینات کی سچائی اُن پر روشن ہو جاتی ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے جو قرآن کریم سے کوئی چیز باہر نہیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۸۱،۸۰ ) هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَلِيهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے بڑے فائدے دو ہیں جن کے پہنچانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے تھے۔ایک حکمت فرقان یعنی معارف و دقائق قرآن۔دوسری تا ثیر قرآن جو موجب تزکیہ نفوس ہے۔اور قرآن کی حفاظت صرف اسی قدر نہیں جو اس کے صحف مکتو بہ کو خوب نگہبانی سے رکھیں کیونکہ ایسے کام تو اوائل حال میں یہود اور نصاری نے بھی کئے۔یہاں تک کہ توریت کے نقطے بھی گن رکھے تھے بلکہ اس جگہ مع حفاظت ظاہری حفاظت فوائد و تا ثیرات قرآنی مراد ہے اور وہ موافق سنت اللہ کے تبھی ہو سکتی ہے کہ جب وقتاً فوقتاً نائب رسول آویں جن میں ل النحل : ٩٠ الانعام : ٣٩ الجمعة : ٣