حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 50

جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ یعنی رسول خدا تمام گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے پیرائیوں میں۔اس وحی الہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر انبیاء علیہم السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آئے ہیں خواہ وہ اسرائیلی ہیں یا غیر اسرائیلی ان سب کے خاص واقعات یا خاص صفات میں سے اس عاجز کو کچھ حصہ دیا گیا ہے۔اور ایک بھی نبی ایسا نہیں گذرا جس کے خواص یا واقعات میں سے اس عاجز کو حصہ نہیں دیا گیا۔ہر ایک نبی کی فطرت کا نقش میری فطرت میں ہے۔اسی پر خدا نے مجھے اطلاع دی۔اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راستباز مقدس نبی گزر چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔سو وہ میں ہوں۔۔۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے میرا نام ذوالقرنین بھی رکھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی میری نسبت یہ وحی مقدس که جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ۔جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا کا رسول تمام نبیوں کے پیرائیوں میں۔یہ چاہتی ہے کہ مجھ میں ذوالقرنین کی بھی صفات ہوں کیونکہ سورہ کہف سے ثابت ہے کہ ذوالقرنین بھی صاحب وحی تھا۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۲تا ۱۱۸) خدا نے جو ہر ایک کام نرمی سے کرتا ہے اس زمانہ کے لئے سب سے پہلے میرا نام عیسی ابن مریم رکھا کیونکہ ضرور تھا کہ میں اپنے ابتدائی زمانہ میں ابن مریم کی طرح قوم کے ہاتھ سے دُکھ اٹھاؤں اور کافر اور ملعون اور دجال کہلاؤں اور عدالتوں میں کھینچا جاؤں سو میرے لئے ابن مریم ہونا پہلا زینہ تھا مگر میں خدا کے دفتر میں صرف عیسی ابن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اور بھی میرے نام ہیں جو آج سے چھبیس برس کی برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرے ہاتھ سے لکھا دیئے ہیں اور دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے۔میں آدم ہوں۔میں نوح ہوں۔میں ابراہیم ہوں۔میں اسحاق ہوں۔میں یعقوب ہوں۔میں اسمعیل ہوں۔میں موسی ہوں۔میں داؤد ہوں۔میں عیسی ابن مریم ہوں۔میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بُروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔سوضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے۔اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔مگر خدا نے یہی پسند کیا کہ سب سے پہلے ابن مریم کے صفات مجھ میں ظاہر کرے۔سو میں نے اپنی قوم سے وہ سب دکھ اُٹھائے جو ابن مریم نے یہود سے اٹھائے بلکہ تمام قوموں سے اٹھائے۔یہ سب کچھ ہوا مگر پھر خدا نے کسر صلیب کے لئے میرا نام مسیح قائم