حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 585
۵۸۵ یہ مقاصد عشرہ ہیں جو قرآن شریف میں مندرج ہیں جو تمام صداقتوں کا اصل الاصول ہیں۔سو یہ تمام مقاصد سورۃ فاتحہ میں بطور اجمال آگئے۔براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد اصفحه۵۸۰ تا ۵۸۵ حاشیہ نمبر۱۱) یاد رہے کہ اکیلی عقل کو ماننے والے جیسے علم اور معرفت اور یقین میں ناقص ہیں ویسا ہی عمل اور وفاداری اور صدق قدم میں بھی ناقص اور قاصر ہیں۔اور ان کی جماعت نے کوئی ایسا نمونہ قائم نہیں کیا جس سے یہ ثبوت مل سکے کہ وہ بھی ان کروڑہا مقدس لوگوں کی طرح خدا کے وفادار اور مقبول بندے ہیں کہ جن کی برکتیں ایسی دنیا میں ظاہر ہوئیں کہ ان کے وعظ اور نصیحت اور دعا اور توجہ اور تاثیر صحبت سے صد ہا لوگ پاک روش اور باخدا ہو کر ایسے اپنے مولیٰ کی طرف جھک گئے کہ دنیا و مافیہا کی کچھ پرواہ نہ رکھ کر اور اس جہان کی لذتوں اور راحتوں اور خوشیوں اور شہرتوں اور فخروں اور مالوں اور ملکوں سے بالکل قطع نظر کر کے اس سچائی کے راستہ پر قدم مارا جس پر قدم مارنے سے اُن میں سے سینکڑوں کی جانیں تلف ہوئیں ہزار ہا سر کاٹے گئے لاکھوں مقدسوں کے خون سے زمین تر ہو گئی پر باوجود ان سب آفتوں کے انہوں نے ایسا صدق دکھایا کہ عاشق دلدادہ کی طرح پایز نجیر ہو کر ہنستے رہے اور دُکھ اُٹھا کر خوش ہوتے رہے اور بلاؤں میں پڑ کر شکر کرتے رہے اور اُسی ایک کی محبت میں وطنوں سے بے وطن ہو گئے اور عزت سے ذلت اختیار کی اور آرام سے مصیبت کو سر پر لے لیا اور تو نگری سے مفلسی قبول کر لی اور ہر یک پیوند و رابطہ اور خویشی سے غریبی اور تنہائی اور بے کسی پر قناعت کی اور اپنے خون کے بہانے سے اور اپنے سروں کے کٹانے سے اور اپنی جانوں کے دینے سے خدا کی ہستی پر مہریں لگا دیں اور کلام الہی کی کچی متابعت کی برکت سے وہ انوار خاصہ اُن میں پیدا ہو گئے کہ جو ان کے غیر میں کبھی نہیں پائے گئے۔اور ایسے لوگ نہ صرف پہلے زمانوں میں موجود تھے بلکہ یہ برگزیدہ جماعت ہمیشہ اہل اسلام میں پیدا ہوتی رہتی ہے اور ہمیشہ اپنے نورانی وجود سے اپنے مخالفین کو ملزم ولا جواب کرتی آئی ہے۔لہذا منکرین پر ہماری یہ حجت بھی تمام ہے کہ قرآن شریف جیسے مراتب علمیہ میں اعلیٰ درجہ کمال تک پہنچاتا ہے ویسا ہی مراتب عملیہ کے کمالات بھی اسی کے ذریعہ سے ملتے ہیں اور آثار و انوار قبولیت حضرت احدیت انہیں لوگوں میں ظاہر ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ظاہر ہوتے ہیں جنہوں نے اس پاک کلام کی متابعت اختیار کی ہے دوسروں میں ہرگز ظاہر نہیں ہوتے۔پس طالب حق کے لئے یہی دلیل جس کو وہ بچشم خود معائنہ کر سکتا ہے کافی ہے یعنی یہ کہ آسمانی برکتیں اور ربانی نشان صرف قرآن شریف کے کامل تابعین میں