حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 579 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 579

۵۷۹ وہ ایک امر محدود ہے اور جو کچھ اس سے مانگا جاتا ہے اُس کی نہایت نہیں۔علاوہ اس کے جو کام ہماری طاقت سے باہر ہیں ان کے حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی ہم کو طاقت نہیں دی گئی۔اب اگر غور کر کے دیکھو اور ذرا پوری فلسفیت کو کام میں لاؤ تو ظاہر ہو گا کہ کامل طور پر کوئی بھی طاقت ہم کو حاصل نہیں مثلاً ہماری بدنی طاقتیں ہماری تندرستی پر موقوف ہیں اور ہماری تندرستی بہت سے ایسے اسباب پر موقوف ہے کہ کچھ ان میں سے سماوی اور کچھ ارضی ہیں اور وہ سب کی سب ہماری طاقت سے بالکل باہر ہیں اور یہ تو ہم نے ایک موٹی سی بات عام لوگوں کی سمجھ کے موافق کہی ہے لیکن جس قدر در حقیقت وہ قیوم عالم اپنے علت العلل ہونے کی وجہ سے ہمارے ظاہر اور ہمارے باطن اور ہمارے اول اور ہمارے آخر اور ہمارے فوق اور ہمارے تحت اور ہمارے یمین اور ہمارے بیسار اور ہمارے دل اور ہماری جان اور ہمارے رُوح کی تمام طاقتوں پر احاطہ کر رہا ہے وہ ایک ایسا مسئلہ دقیق ہے جس کے کنہ تک عقول بشریہ پہنچ ہی نہیں سکتیں۔اور اُس کے سمجھانے کی اس جگہ ضرورت بھی نہیں کیونکہ جس قدر ہم نے اوپر لکھا ہے وہی مخالف کے الزام اور افہام کے لئے کافی ہے۔غرض قیوم عالم کے فیوض حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ اپنی ساری قوت اور زور اور طاقت سے اپنا بچاؤ طلب کیا جائے۔اور یہ طریق کچھ نیا طریق نہیں ہے بلکہ یہ وہی طریق ہے جو قدیم سے بنی آدم کی فطرت کے ساتھ لگا چلا آتا ہے۔جوشخص عبودیت کے طریقہ پر چلنا چاہتا ہے وہ اسی طریق کو اختیار کرتا ہے اور جو شخص خدا کے فیوض کا طالب ہے وہ اسی راستے پر قدم مارتا ہے اور جو شخص مور د رحمت ہونا چاہتا ہے وہ انہی قوانین قدیمہ کی تعمیل کرتا ہے۔یہ قوانین کچھ نئے نہیں ہیں۔یہ عیسائیوں کے خدا کی طرح کچھ مستحدث بات نہیں بلکہ خدا کا یہ ایک قانونِ محکم ہے کہ جو قدیم سے بندھا ہوا چلا آتا ہے اور سُنت اللہ ہے کہ جو ہمیشہ سے جاری ہے جس کی سچائی کثرت تجارب سے ہر یک طالب صادق پر روشن ہے۔فی الحقیقت ہر ایک برکت اسی راہ سے۔آتی ہے کہ وہ ذات جو متصرف مطلق اور علت العلل اور تمام فیوض کا مبدء ہے جس کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ ہے خود متوجہ ہو کر اول اپنی صفت رحمانیت کو ظاہر کرے اور جو کچھ قبل از سعی در کار ہے اُس کو محض اپنے فضل اور احسان سے بغیر توسط عمل کے ظہور میں لاوے پھر جب وہ صفت رحمانیت کی اپنے کام کو بہ تمام و کمال کر چکے اور انسان توفیق پا کر اپنی قوتوں کے ذریعہ سے محنت اور کوشش کا حق بجا لاوے تو پھر دوسرا کام اللہ تعالیٰ کا یہ ہے کہ اپنی صفت رحیمیت کو ظاہر کرے اور جو کچھ بندہ نے محنت اور کوشش کی ہے اُس پر نیک ثمرہ مترتب کرے اور اُس کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچا کر گوہر مراد عطا