حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 576
۵۷۶ وقت اللہ تعالیٰ کی ذات جامع صفات کاملہ کی رحمانیت اور رحیمیت سے استمداد اور برکت طلب کی جائے۔صفت رحمانیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذات کامل اپنی رحمانیت کی وجہ سے اُن سب اسباب کو محض لطف اور احسان سے میسر کر دے کہ جو کلام الہی کی متابعت میں جد و جہد کرنے سے پہلے درکار ہیں۔جیسے عمر کا وفا کرنا۔فرصت اور فراغت کا حاصل ہونا۔وقت صفا میسر آجانا طاقتوں اور قوتوں کا قائم ہونا۔کوئی ایسا امر پیش نہ آجانا کہ جو آسائش اور امن میں خلل ڈالے۔کوئی ایسا مانع نہ آپڑ نا کہ جو دل کو متوجہ ہونے سے روک دے۔غرض ہر طرح سے تو فیق عطا کئے جانا یہ سب امور صفت رحمانیت سے حاصل ہوتے ہیں۔اور صفت رحیمیت سے برکت طلب کرنا اس غرض سے ہے کہ تا وہ ذات کامل اپنی رحیمیت کی وجہ سے انسان کی کوششوں پر ثمرات حسنہ مرتب کرے۔اور انسان کی محنتوں کو ضائع ہونے سے بچاوے اور اس کی سعی اور جدوجہد کے بعد اس کے کام میں برکت ڈالے۔پس اس طور پر خدائے تعالیٰ کی دونوں صفتوں رحمانیت اور رحیمیت سے کلام الہی کے شروع کرنے کے وقت بلکہ ہر یک ذیشان کام کے ابتداء میں تبرک اور استمداد چاہنا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی صداقت ہے جس سے انسان کو حقیقت توحید کی حاصل ہوتی ہے اور اپنے جہل اور بے خبری اور نادانی اور گمراہی اور عاجزی اور خواری پر یقین کامل ہو کر مبدء فیض کی عظمت اور جلال پر نظر جاٹھہرتی ہے اور اپنے تئیں بکتی مفلس اور مسکین اور بیچ اور ناچیز سمجھ کر خداوند قادر مطلق سے اُس کی رحمانیت اور رحیمیت کی برکتیں طلب کرتا ہے اور اگر چہ خدائے تعالیٰ کی یہ صفتیں خود بخود اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں مگر اس حکیم مطلق نے قدیم سے انسان کے لئے یہ قانون قدرت مقرر کر دیا ہے کہ اس کی دُعا اور استمداد کو کامیابی میں بہت سا دخل ہے۔جو لوگ اپنی مہمات میں دلی صدق سے دعا مانگتے ہیں اور ان کی دُعا پورے پورے اخلاص تک پہنچ جاتی ہے تو ضرور فیضان الہی ان کی مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتا ہے ہر یک انسان جو اپنی کمزوریوں پر نگاہ کرتا ہے اور اپنے قصوروں کو دیکھتا ہے وہ کسی کام پر آزادی اور خود بینی سے ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ سچی عبودیت اس کو یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ جو متصرف مطلق ہے اُس سے مدد طلب کرنی چاہئے۔یہ کچی عبودیت کا جوش ہر ایک ایسے دل میں پایا جاتا ہے کہ جو اپنی فطرتی سادگی پر قائم ہے۔اور اپنی کمزوری پر اطلاع رکھتا ہے۔پس صادق آدمی جس کے رُوح میں کسی قسم کے غرور اور عجب نے جگہ نہیں پکڑی اور جو اپنے کمزور اور بیچ اور بے حقیقت وجود پر خوب واقف ہے اور اپنے تئیں کسی کام کے انجام دینے کے لائق نہیں پاتا اور اپنے نفس میں کچھ قوت اور طاقت نہیں دیکھتا جب کسی کام کو شروع