حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 575
۵۷۵ صفت رحیمیت کو بیان فرمایا تا معلوم ہو کہ کلام الہی کی تاثیریں جو نفوسِ انسانیہ میں ہوتی ہیں یہ صفت رحیمیت کا اثر ہے جس قدر کوئی اعراض صوری و معنوی سے پاک ہو جاتا ہے جس قدر کسی کے دل میں خلوص اور صدق پیدا ہو جاتا ہے جس قدر کوئی جدو جہد سے متابعت اختیار کرتا ہے اُسی قدر کلام الہی کی تاثیر اس کے دل پر ہوتی ہے اور اسی قدر وہ اس کے انوار سے متمتع ہوتا ہے اور علامات خاصہ مقبولانِ الہی کی اس میں پیدا ہو جاتی ہیں۔دوسری صداقت کہ جو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ میں مودع ہے یہ ہے کہ یہ آیت قرآن شریف کے شروع کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اور اس کے پڑھنے سے مدعا یہ ہے کہ تا اس ذات مستجمع جمیع صفات کاملہ سے مدد طلب کی جائے جس کی صفتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ رحمان ہے اور طالب حق کے لئے محض تفضل اور احسان سے اسباب خیر اور برکت اور رشد کے پیدا کر دیتا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ وہ رحیم ہے یعنی سعی اور کوشش کرنے والوں کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا بلکہ اُن کی جدوجہد پر ثمرات حسنہ مترتب کرتا ہے اور ان کی محنت کا پھل اُن کو عطا فرماتا ہے اور یہ دونوں صفتیں یعنی رحمانیت اور رحیمیت ایسی ہیں کہ بغیر ان کے کوئی کام دنیا کا ہو یا دین کا انجام کو پہنچ نہیں سکتا اور اگر غور کر کے دیکھو تو ظاہر ہو گا کہ دنیا کی تمام مہمات کے انجام دینے کے لئے یہ دونوں صفتیں ہر وقت اور ہر لحظہ کام میں لگی ہوئی ہیں۔خدا کی رحمانیت اس وقت سے ظاہر ہو رہی ہے کہ جب انسان ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔سو وہ رحمانیت انسان کے لئے ایسے ایسے اسباب بہم پہنچاتی ہے کہ جو اس کی طاقت سے باہر ہیں اور جن کو وہ کسی حیلہ یا تدبیر سے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا اور وہ اسباب کسی عمل کی پاداش میں نہیں دیئے جاتے بلکہ تفضل اور احسان کی راہ سے عطا ہوتے ہیں۔جیسے نبیوں کا آنا۔کتابوں کا نازل ہونا۔بارشوں کا ہونا۔سورج اور چاند اور ہوا اور بادل وغیرہ کا اپنے اپنے کاموں میں لگے رہنا اور خود انسان کا طرح طرح کی قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ مشرف ہو کر اس دنیا میں آنا اور تندرستی اور امن اور فرصت اور ایک کافی مدت تک عمر پانا۔یہ وہ سب امور ہیں کہ جو صفت رحمانیت کے تقاضا سے ظہور میں آتے ہیں۔اسی طرح خدا کی رحیمیت تب ظہور کرتی ہے کہ جب انسان سب تو فیقوں کو پا کر خدا داد قوتوں کو کسی فعل کے انجام کے لئے حرکت دیتا ہے اور جہاں تک اپنا زور اور طاقت اور قوت ہے خرچ کرتا ہے تو اس وقت عادتِ الہیہ اس طرح پر جاری ہے کہ وہ اس کی کوششوں کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ اُن کوششوں پر ثمرات حسنہ مترتب کرتا ہے۔پس یہ اس کی سراسر رحیمیت ہے کہ جو انسان کی مردہ محنتوں میں جان ڈالتی ہے۔اب جاننا چاہئے کہ آیت ممدوحہ کی تعلیم سے مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کے شروع کرنے کے ہے۔