حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 574
۵۷۴ کامل انسان اور سید الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہو گا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کے لئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی۔پس یہ خدا کی کمال رحمانیت کی ایک بزرگ تجلی تھی کہ جو اس نے ظلمت اور تاریکی کے وقت ایسا عظیم الشان نور نازل کیا جس کا نام فرقان ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتا ہے جس نے حق کو موجود اور باطل کو نابود کر کے دکھلا دیا۔وہ اس وقت زمین پر نازل ہوا جب زمین ایک موت روحانی کے ساتھ مر چکی تھی اور بر اور بحر میں ایک بھاری فساد واقع ہو چکا تھا۔پس اُس نے نزول فرما کر وہ کام کر دکھایا جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِهَا لا یعنی زمین مرگئی تھی اب خدا اُس کو نئے سرے زندہ کرتا ہے۔اب اس بات کو بخوبی یا د رکھنا چاہئے کہ یہ نزول قرآن شریف کا کہ جو زمین کے زندہ کرنے کے لئے ہوا یہ صفت رحمانیت کے جوش سے ہوا۔وہی صفت ہے کہ جو کبھی جسمانی طور پر جوش مار کر قحط زدوں کی خبر لیتی ہے اور بارانِ رحمت خشک زمین پر برساتی ہے اور وہی صفت کبھی روحانی طور پر جوش مار کر ان بھوکوں اور پیاسوں کی حالت پر رحم کرتی ہے کہ جو ضلالت اور گمراہی کی موت تک پہنچ جاتے ہیں اور حق اور صداقت کی غذا کہ جو روحانی زندگی کا موجب ہے ان کے پاس نہیں رہتی پس رحمان مطلق جیسا جسم کی غذا کو اس کی حاجت کے وقت عطا فرماتا ہے ایسا ہی وہ اپنی رحمت کاملہ کے تقاضا سے روحانی غذا کو بھی ضرورت حقہ کے وقت مہیا کر دیتا ہے۔ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا کا کلام انہیں برگزیدہ لوگوں پر نازل ہوتا ہے جن سے خدا راضی ہے اور انہیں سے وہ مکالمات اور مخاطبات کرتا ہے جن سے وہ خوش ہے۔مگر یہ بات ہرگز درست نہیں کہ جس سے خدا راضی اور خوش ہو اُس پر خواہ نخواہ بغیر کسی ضرورت حقہ کے کتاب آسمانی نازل ہو جایا کرے یا خدائے تعالیٰ یونہی بلاضرورت حقہ کسی کی طہارت لازمی کی وجہ سے لا زمی اور دائمی طور پر اس سے ہر وقت باتیں کرتا ر ہے بلکہ خدا کی کتاب اُسی وقت نازل ہوتی ہے کہ جب فی الحقیقت اس کے نزول کی ضرورت پیش آ جائے۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ وحی اللہ کے نزول کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی رحمانیت ہے کسی عامل کا عمل نہیں اور یہ ایک بزرگ صداقت ہے جس سے ہمارے مخالف بر ہمو وغیرہ بے خبر ہیں۔پھر بعد اس کے سمجھنا چاہئے کہ کسی فرد انسانی کا کلام الہی کے فیض سے فی الحقیقت مستفیض ہو جانا اور اس کی برکات اور انوار سے متمتع ہو کر منزل مقصود تک پہنچنا اور اپنی سعی اور کوشش کے ثمرہ کو حاصل کرنا یہ صفت رحیمیت کی تائید سے وقوع میں آتا ہے اور اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے بعد ذکر صفت رحمانیت کے الحديد : ۱۸