حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 573
۵۷۳ کوئی بشارت اس کو دی جائے۔مگر وہ کامل اور پاک کلام خدائے تعالیٰ کا کہ جو نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے وہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے اس ضرورت حقہ کے پیش آنے پر نزول فرماتا ہے کہ جب خلق اللہ کو اُس کے نزول کی بشدت حاجت ہو۔غرض کلام الہی کے نازل ہونے کا اصل موجب ضرورت حقہ ہے۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب تمام رات کا اندھیر ہو جاتا ہے اور کچھ نور باقی نہیں رہتا تو اسی وقت تم سمجھ جاتے ہو کہ اب ماہ نو کی آمد نزدیک ہے اسی طرح جب گمراہی کی ظلمت سخت طور پر دنیا پر غالب آ جاتی ہے تو عقل سلیم اس روحانی چاند کے نکلنے کو بہت نزدیک بجھتی ہے۔ایسا ہی جب امساک باراں سے لوگوں کا حال تباہ ہو جاتا ہے تو اس وقت عقلمند لوگ بارانِ رحمت کا نازل ہونا بہت قریب خیال کرتے ہیں اور جیسا کہ خدا نے اپنے جسمانی قانون میں بھی بعض مہینے برسات کے لئے مقرر کر رکھے ہیں یعنی وہ مہینے جن میں فی الحقیقت مخلوق اللہ کو بارش کی ضرورت ہوتی ہے اور ان مہینوں میں جو مینہ برستا ہے اُس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاتا کہ خاص ان مہینوں میں لوگ زیادہ نیکی کرتے ہیں اور دوسرے مہینوں میں فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ وہ مہینے ہیں جن میں زمین داروں کو بارش کی ضرورت ہے اور جن میں بارش کا ہو جانا تمام سال کی سرسبزی کا موجب ہے۔ایسا ہی کلام الہی کا نزول فرمانا کسی شخص کی طہارت اور تقویٰ کی جہت سے نہیں ہے۔یعنی علت موجبہ اس کلام کے نزول کی یہ نہیں ہو سکتی کہ کوئی شخص غایت درجہ کا مقدس اور پاک باطن تھا یا راستی کا بھوکا اور پیاسا تھا بلکہ جیسا کہ ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کتب آسمانی کے نزول کا اصلی موجب ضرورت حقہ ہے۔یعنی وہ ظلمت اور تاریکی کہ جو دنیا پر طاری ہو کر ایک آسمانی نور کو چاہتی ہے کہ تا وہ نور نازل ہو کر اس تاریکی کو دور کرے۔اور اسی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ جو خدائے تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا ہے۔اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ لے یہ لیلۃ القدر اگر چہ اپنے مشہور معنوں کی رُو سے ایک بزرگ رات ہے لیکن قرآنی اشارات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ظلمانی حالت بھی اپنی پوشیدہ خوبیوں میں لیلتہ القدر کا ہی حکم رکھتی ہے اور اس ظلمانی حالت کے دنوں میں صدق اور صبر اور زہد اور عبادت خدا کے نزدیک بڑا قدر رکھتا ہے۔اور وہی ظلمانی حالت تھی کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت کے وقت تک اپنے کمال کو پہنچ کر ایک عظیم الشان نور کے نزول کو چاہتی تھی اور اسی ظلمانی حالت کو دیکھ کر اور ظلمت زدہ بندوں پر رحم کر کے صفت رحمانیت نے جوش مارا اور آسمانی برکتیں زمین کی طرف متوجہ ہوئیں سو وہ ظلمانی حالت دنیا کے لئے مبارک ہو گئی اور دنیا نے اس سے ایک عظیم الشان رحمت کا حصہ پایا کہ ایک القدر : ٢