حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 572
۵۷۲ پانی اور ہوا وغیرہ کو بندوں کی بھلائی کے لئے پیدا کیا ہے یہ تمام جود اور بخشش صفت رحمانیت کی رُو سے ہے اور کوئی شخص دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ چیزیں میرے کسی عمل کی پاداش میں بنائی گئی ہیں۔اسی طرح خدا کا کلام بھی کہ جو بندوں کی اصلاح اور رہنمائی کے لئے اتر اوہ بھی اس صفت کے رُو سے اُترا ہے اور کوئی ایسا متنفس نہیں کہ یہ دعوی کر سکے کہ میرے کسی عمل یا مجاہدہ یا کسی پاک باطنی کے اجر میں خدا کا پاک کلام کہ جو اُس کی شریعت پر مشتمل ہے نازل ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر چہ طہارت اور پاک باطنی کا دم مارنے والے اور زہد اور عبادت میں زندگی بسر کرنے والے اب تک ہزاروں لوگ گزرے ہیں لیکن خدا کا پاک اور کامل کلام کہ جو اس کے فرائض اور احکام کو دنیا میں لایا اور اس کے ارادوں سے خلق اللہ کو مطلع کیا اُنہیں خاص وقتوں میں نازل ہوا ہے کہ جب اس کے نازل ہونے کی ضرورت تھی۔ہاں یہ ضرور ہے کہ خدا کا پاک کلام انہیں لوگوں پر نازل ہو کہ جو تقدس اور پاک باطنی میں اعلیٰ درجہ رکھتے ہوں کیونکہ پاک کو پلید سے کچھ میل اور مناسبت نہیں۔لیکن یہ ہر گز ضرور نہیں کہ ہر جگہ تقدس اور پاک باطنی کلام الہی کے نازل ہونے کو مستلزم ہو بلکہ خدائے تعالیٰ کی حقانی شریعت اور تعلیم کا نازل ہونا ضرورات حقہ سے وابستہ ہے۔پس جس جگہ ضرورات حقہ پیدا ہو گئیں اور زمانہ کی اصلاح کے لئے واجب معلوم ہوا کہ کلام الہی نازل ہواُسی زمانہ میں خدائے تعالیٰ نے جو حکیم مطلق ہے اپنے کلام کو نازل کیا اور کسی دوسرے زمانہ میں گولاکھوں آدمی تقویٰ اور طہارت کی صفت سے متصف ہوں اور گوکیسی ہی تقدس اور پاک باطنی رکھتے ہوں ان پر خدا کا وہ کامل کلام ہرگز نازل نہیں ہوتا کہ جو شریعت حقانی پر مشتمل ہو۔ہاں مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت کے بعض پاک باطنوں سے ہو جاتے ہیں۔اور وہ بھی اُس وقت کہ جب حکمتِ الہیہ کے نزدیک ان مکالمات اور مخاطبات کے لئے کوئی ضرورت حقہ پیدا ہو اور ان دونوں طور کی ضرورتوں میں فرق یہ ہے کہ شریعت حقانی کا نازل ہونا اس ضرورت کے وقت پیش آتا ہے کہ جب دنیا کے لوگ باعث ضلالت اور گمراہی کے جادہ استقامت سے منحرف ہو گئے ہوں اور اُن کے راہ راست پر لانے کے لئے ایک نئی شریعت کی حاجت ہو کہ جوان کی آفات موجودہ کا بخوبی تدارک کر سکے اور ان کی تاریکی اور ظلمت کو اپنے کامل اور شافی بیان کے نور سے بکلّی اٹھا سکے۔اور جس طور کا علاج حالت فاسدہ زمانہ کے لئے درکار ہے وہ علاج اپنے پر زور بیان سے کر سکے لیکن جو مکالمات و مخاطبات اولیاء اللہ کے ساتھ ہوتے ہیں اُن کے لئے غالبا اس ضرورت عظمی کا پیش آنا ضروری نہیں بلکہ بسا اوقات صرف اُسی قدر ان مکالمات سے مطلب ہوتا ہے کہ تا ولی کے نفس کو کسی مصیبت اور محنت کے وقت صبر اور استقامت کے لباس سے متحلی کیا جائے یا کسی غم اور حزن کے غلبہ میں