حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 567
خاصہ بزرگ پایا جاتا ہے کہ جو اُسی کلام پاک سے خاص ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو توجہ اور اخلاص سے پڑھنا دل کو صاف کرتا ہے اور ظلمانی پردوں کو اٹھاتا ہے اور سینے کو منشرح کرتا ہے اور طالب حق کو حضرت احدیت کی طرف کھینچ کر ایسے انوار اور آثار کا مورد کرتا ہے کہ جو مقربانِ حضرت احدیت میں ہونی چاہئے اور جن کو انسان کسی دوسرے حیلہ یا تدبیر سے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا اور اس رُوحانی تاثیر کا ثبوت بھی ہم اس کتاب میں دے چکے ہیں اور اگر کوئی طالب حق ہو تو با لمواجہ ہم اُس کی تسلی کر سکتے ہیں اور ہر وقت تازہ بتازہ ثبوت دینے کو طیار ہیں اور نیز اس بات کو بخوبی یا د رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف کا اپنی کلام میں بے مثل و مانند ہونا صرف عقلی دلائل میں محصور نہیں بلکہ زمانہ دراز کا تجربہ صیحہ بھی اس کا مؤید اور مصدق ہے کیونکہ باوجود اس کے کہ قرآن شریف برابر تیرہ سو برس سے اپنی تمام خوبیاں پیش کر کے ھل من معارض کا نقارہ بجا رہا ہے اور تمام دنیا کو بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی ظاہری صورت اور باطنی خواص میں بے مثل و مانند ہے اور کسی جن یا انس کو اس کے مقابلہ یا معارضہ کی طاقت نہیں مگر پھر بھی کسی متنفس نے اس کے مقابلہ پر دم نہیں مارا بلکہ اس کی کم سے کم کسی سورۃ مثلاً سورۃ فاتحہ کی ظاہری و باطنی خوبیوں کا بھی مقابلہ نہیں کر سکا۔تو دیکھو اس سے زیادہ بدیہی اور گھلا کھلا معجزہ اور کیا ہوگا کہ عقلی طور پر بھی اس پاک کلام کا بشری طاقتوں سے بلند تر ہونا ثابت ہوتا ہے اور زمانہ دراز کا تجربہ بھی اس کے مرتبہ اعجاز پر گواہی دیتا ہے۔اور اگر کسی کو یہ دونوں طور کی گواہی کہ جو عقل اور تجر بہ زمانہ دراز کے رو سے بہ پایہ ثبوت پہنچ چکی ہے نا منظور ہوا اور اپنے علم اور ہنر پر نازاں ہو یا دنیا میں کسی ایسے بشر کی انشا پردازی کا قائل ہو کہ جو قرآن شریف کی طرح کوئی کلام بنا سکتا ہے تو ہم جیسا کہ وعدہ کر چکے ہیں کچھ بطور نمونہ حقائق و دقائق سورۃ فاتحہ کے لکھتے ہیں۔اُس کو چاہئے کہ بمقابلہ ان ظاہری و باطنی سورۃ فاتحہ کی خوبیوں کے کوئی اپنا کلام پیش کرے۔- ( براہین احمدیہ ہر چہار ص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۹۴ تا ۳ ۴۰ حاشیہ نمبر۱۱) سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن شریف کی طرح دوستم کی خوبیاں کہ جو بے مثل و مانند ہیں پائی جاتی ہیں۔یعنی ایک ظاہری صورت میں خوبی اور ایک باطنی خوبی۔ظاہری خوبی یہ کہ جیسا کہ بار ہا ذکر کیا گیا ہے اس کی عبارت میں ایسی رنگینی اور آب و تاب اور نزاکت و لطافت و ملائمت اور بلاغت اور شیرینی اور روانگی اور حسنِ بیان اور حسن ترتیب پایا جاتا ہے کہ ان معانی کو اس سے بہتر یا اس سے مساوی کسی دوسری فصیح عبارت میں ادا کر ناممکن نہیں اور اگر تمام دنیا کے انشا پرداز اور شاعر متفق ہو کر یہ چاہیں کہ اسی مضمون کو