حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 565
۵۶۵ معارف عالیہ ضرور یہ لکھتے ہیں کہ جن کے آثار پہلی تعلیموں سے مندرس اور محو ہو گئے تھے اور کسی حکیم یا فیلسوف نے بھی اُن معارف عالیہ پر قدم نہیں مارا تھا اور پھر اُن معارف کو غیر ضروری اور فضول طور پر نہیں لکھا بلکہ ٹھیک ٹھیک اُس وقت اور اُس زمانہ میں ان کو بیان فرمایا جس وقت حالت موجودہ زمانہ کی اصلاح کے لئے اُن کا بیان کرنا از بس ضروری تھا۔اور بغیر ان کے بیان کرنے کے زمانہ کی ہلاکت اور تبا ہی متصورتھی اور پھر وہ معارف عالیہ ناقص اور نا تمام طور پر نہیں لکھے گئے بلکہ كمّاً و كيفاً کامل درجہ پر واقع ہیں اور کسی عاقل کی عقل کوئی ایسی دینی صداقت پیش نہیں کر سکتی جو ان سے باہر رہ گئی ہو۔اور کسی باطل پرست کا کوئی ایسا وسوسہ نہیں جس کا ازالہ اس کلام میں موجود نہ ہو۔ان تمام حقائق و دقائق کے التزام سے کہ جو دوسری طرف ضرورت حقہ کے التزام کے ساتھ وابستہ ہیں فصاحت بلاغت کے اُن اعلیٰ کمالات کو ادا کرنا جن پر زیادت متصور نہ ہو یہ تو نہایت بڑا کام ہے کہ جو بشری طاقتوں سے یہ بداہت نظر بلند تر ہے۔مگر انسان تو ایسا بے ہنر ہے کہ اگر ادنی اور ناکارہ معاملات کو کہ جو حقائق عالیہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتے کسی رنگین اور فصیح عبارت میں بہ التزام راست بیانی اور حق گوئی کے لکھنا چاہے تو یہ بھی اس کے لئے ممکن نہیں جیسا کہ یہ بات ہر عاقل کے نزدیک نہایت بد یہی ہے کہ اگر مثلاً ایک دوکاندار جو کامل درجہ کا شاعر اور انشا پرداز ہو یہ چاہے کہ جو اپنی اس گفتگو کو جو ہر روز اُسے رنگا رنگ کے خریداروں اور معاملہ داروں کے ساتھ کرنی پڑتی ہے کمال بلاغت اور رنگینی کعبارت کے ساتھ کیا کرے اور پھر یہ بھی التزام رکھے کہ ہر محل اور ہر موقعہ میں جس قسم کی گفتگو کرنا ضروری ہے وہی کرے۔مثلاً جہاں کم بولنا مناسب ہے وہاں کم بولے اور جہاں بہت مغز زنی مصلحت ہے وہاں بہت گفتگو کر کرے۔اور جب اس میں اور اس کے خریدار میں کوئی بحث آ پڑے تو وہ طرز تقریر اختیار کرے جس سے اس بحث کو اپنے مفید مطلب طے کر سکے یا مثلاً ایک حاکم جس کا یہ کام ہے کہ فریقین اور گواہوں کے بیان کو ٹھیک ٹھیک قلمبند کرے اور ہر یک بیان پر جو جو واقعی اور ضروری طور پر جرح قدح کرنا چاہئے وہی کرے اور جیسا کہ تنقیح مقدمہ کے لئے شرط ہے اور تفتیش امر متنازعہ فیہ کے لئے قرین مصلحت ہے سوال کے موقعہ پر سوال اور جواب کے موقعہ پر جواب لکھے اور جہاں قانونی وجوہ کا بیان کرنا لازم ہو ان کو درست طور پر حسب منشاء قانون بیان کرے اور جہاں واقعات کا بہ ترتیب تمام کھولنا واجب ہو اُن کو بہ پابندی ترتیب و صحت کھول دے اور پھر جو کچھ فی الواقعہ اپنی رائے اور بتائید اُس رائے کے وجوہات ہیں اُن کو بصحت تمام بیان کرے اور باوصف ان التزامات کے فصاحت بلاغت کے اس اعلیٰ درجہ پر اس کا کلام ہو کہ اس سے بہتر