حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 563
۵۶۳ جاتے ہیں لکھا جائے اور پھر بمقابلہ اس کے عجائبات کے سورۃ فاتحہ کے عجائبات ظاہری و باطنی قلمبند ہوں تا ناظرین با انصاف کو معلوم ہو کہ جو خوبیاں گلاب کے پھول میں ظاہر او باطنا پائی جاتی ہیں جن کے رُو سے اُس کی نظیر بنانا عادتاً محال سمجھا گیا ہے۔اُسی طور پر اور اس سے بہتر خوبیاں سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں اور تا اس مثال کے لکھنے سے اشارہ کشفی پر بھی عمل ہو جائے۔پس جاننا چاہئے کہ یہ امر ہر یک عاقل کے نزدیک بغیر کسی تردد اور توقف کے مسلم الثبوت ہے کہ گلاب کا پھول بھی مثل اور مصنوعاتِ الہیہ کے ایسی عمدہ خوبیاں اپنی ذات میں جمع رکھتا ہے جن کی مثل بنانے پر انسان قادر نہیں اور وہ دو طور کی خوبیاں ہیں۔ایک وہ کہ جو اس کی ظاہری صورت میں پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس کا رنگ نہایت خوشنما اور خوب ہے۔اور اس کی خوشبو نہایت دل آرام اور دلکش ہے۔اور اُس کے ظاہر بدن میں نہایت درجہ کی ملائمت اور تر و تازگی اور نرمی اور نزاکت اور صفائی ہے۔اور دوسری وہ خوبیاں ہیں کہ جو باطنی طور پر حکیم مطلق نے اُس میں ڈال رکھی ہیں۔یعنی وہ خواص کہ جو اُس کے جوہر میں پوشیدہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ مفرح اور مقوی قلب اور مسکن صفراء ہے اور تمام قومی اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور صفراء اور بلغم رقیق کا مسہل بھی ہے اور اسی طرح معدہ اور جگر اور گردہ اور امعاء اور رحم اور پھیپھڑہ کو بھی قوت بخشا ہے اور خفقان حار اور غشی اور ضعف قلب کے لئے نہایت مفید ہے اور اسی طرح اور کئی امراض بدنی کو فائدہ مند ہے۔پس انہیں دونوں طور کی خوبیوں کی وجہ سے اُس کی نسبت اعتقاد کیا گیا ہے کہ وہ ایسے مرتبہ کمال پر واقع ہے کہ ہر گز کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسا پھول بناوے کہ جو اس پھول کی طرح رنگ میں خوشنما اور خوشبو میں دل کش اور بدن میں نہایت تر و تازہ اور نرم اور نازک اور مصفا ہو اور باوجود اس کے باطنی طور پر تمام وہ خواص بھی رکھتا ہو جو گلاب کے پھول میں پائے جاتے ہیں۔اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیوں گلاب کے پھول کی نسبت ایسا اعتقاد کیا گیا کہ انسانی قو تیں اس کی نظیر بنانے سے عاجز ہیں اور کیوں جائز نہیں کہ کوئی انسان اس کی نظیر بنا سکے اور جو خوبیاں اس کی ظاہر و باطن میں پائی جاتی ہیں وہ مصنوعی پھول میں پیدا کر سکے تو اس سوال کا جواب یہی ہے کہ ایسا پھول بنانا عادتا ممتنع ہے۔اور آج تک کوئی حکیم اور فیلسوف کسی ایسی ترکیب سے کسی قسم کی ادویہ کو ہم نہیں پہنچا سکا کہ جن کے باہم مخلوط اور ممزوج کرنے سے ظاہر و باطن میں گلاب کے پھول کی سی صورت اور سیرت پیدا ہو جائے۔اب سمجھنا چاہئے کہ یہی وجوہ بے نظیری کی سورۃ فاتحہ میں بلکہ قرآن شریف کے ہر یک حصہ اقل قلیل میں کہ جو چار آیت سے بھی کم ہو پائی جاتی ہیں۔پہلے ظاہری