حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 562
۵۶۲ کسی کو ان وجوہ بے نظیری کے قبول کرنے میں پھر بھی انکار ہو گا تو یہ بار ثبوت اُسی کے ذمہ ہو گا کہ کوئی دوسرا کلام پیش کر کے دکھلاوے جس میں وہ تمام وجوہ بے نظیری پائے جاویں۔سو واضح ہو کہ اگر کوئی کلام ان تمام چیزوں میں سے کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے صادر اور اُس کے دستِ قدرت کی صنعت ہیں کسی چیز سے مشابہت کلّی رکھتا ہو یعنی اس میں عجائبات ظاہری و باطنی ایسے طور پر جمع ہوں کہ جو مصنوعات الہیہ میں سے کسی شے میں جمع ہیں تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ وہ کلام ایسے مرتبہ پر واقع ہے کہ جس کی مثل بنانے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں۔کیونکہ جس چیز کی نسبت بے نظیر اور صادر من اللہ ہونا عند الخواص والعوام ایک مسلم اور مقبول امر ہے جس میں کسی کو اختلاف و نزاع نہیں اُس کی وجوہ بے نظیری میں کسی شے کی شراکت تامہ ثابت ہونا بلاشبہ اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ شے بھی بے نظیر ہی ہے۔مثلاً اگر کوئی چیز اُس چیز سے بلکلی مطابق آجائے جو اپنے مقدار میں دس گز ہے تو اس کی نسبت بھی یہ علم صیح قطعی مفید یقین جازم حاصل ہوگا کہ وہ بھی دس گز ہے۔اب ہم ان مصنوعات الہیہ میں سے ایک لطیف مصنوع کو مثلاً گلاب کے پھول کو بطور مثال قرار دے کر اس کے وہ عجائبات ظاہری و باطنی لکھتے ہیں جن کی رُو سے وہ ایسی اعلیٰ حالت پر تسلیم کیا گیا ہے کہ اُس کی نظیر بنانے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں۔اور پھر اس بات کو ثابت کر کے دکھلائیں گے کہ ان سب عجائبات سے سورۃ فاتحہ کے عجائبات اور کمالات ہموزن ہیں بلکہ ان عجائبات کا پلہ بھاری ہے۔اور اس مثال کے اختیار کرنے کا موجب یہ ہوا کہ ایک مرتبہ اس عاجز نے اپنی نظر کشفی میں سورۃ فاتحہ کو دیکھا کہ ایک ورق پر لکھی ہوئی اس عاجز کے ہاتھ میں ہے اور ایک ایسی خوبصورت اور دلکش شکل میں ہے کہ گویا وہ کاغذ جس پر سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے سُرخ سُرخ اور ملائم گلاب کے پھولوں سے اس قد ر لدا ہوا ہے کہ جس کا کچھ انتہا نہیں۔اور جب یہ عاجز اس صورت کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو اُس میں سے بہت سے گلاب کے پھول ایک خوش آواز کے ساتھ پرواز کر کے اوپر کی طرف اُڑتے ہیں اور وہ پھول نہایت لطیف اور بڑے بڑے اور سندر اور تر و تازہ اور خوشبو دار ہیں جن کے اوپر چڑھنے کے وقت دل و دماغ نہایت معطر ہو جاتا ہے اور ایک ایسا عالم مستی کا پیدا کرتے ہیں کہ جو اپنی بے مثل لذتوں کی کشش سے دنیا و مافیہا سے نہایت درجہ کی نفرت دلاتے ہیں۔اس مکاشفہ سے معلوم ہوا کہ گلاب کے پھول کو سورۃ فاتحہ کے ساتھ ایک رُوحانی مناسبت ہے سوالیسی مناسبت کے لحاظ سے اس مثال کو اختیار کیا گیا اور مناسب معلوم ہوا کہ اوّل بطور مثال گلاب کے پھول کے عجائبات کو کہ جو اس کے ظاہر و باطن میں پائے