حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 561
۵۶۱ بد بخت نجومیوں اور جوتشیوں سے نسبت دینا کمال درجہ کی کج فہمی اور غایت درجہ کی بدنصیبی ہے کیونکہ وہ دنیا کے ذلیل جیفہ خواروں کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتے بلکہ وہ آفتاب اور چاند کی طرح آسمانی نور ہیں اور حکمتِ الہیہ کے قانونِ قدیم نے اسی غرض سے ان کو پیدا کیا ہے کہ تا دنیا میں آکر دنیا کو منور کریں۔یہ بات بتوجہ تمام یاد رکھنی چاہئے کہ جیسے خدا نے امراض بدنی کے لئے بعض ادویہ پیدا کی ہیں اور عمدہ عمدہ چیزیں جیسے تریاق وغیرہ انواع و اقسام کے آلام اسقام کے لئے دنیا میں موجود کی ہیں اور ان ادویہ میں ابتدا سے یہ خاصیت رکھی ہے کہ جب کوئی بیمار بشر طیکہ اس کی بیماری درجہ شفایابی سے تجاوز نہ کر گئی ہو ان دواؤں کو برعایت پر ہیز وغیرہ شرائط استعمال کرتا ہے تو اس حکیم مطلق کی اسی طرح پر عادت جاری ہے کہ اس بیمار کو حسب استعداد اور قابلیت کسی قدر صحت اور تندرستی سے حصہ بخشتا ہے یا بکلی شفا عنایت کرتا ہے۔اسی طرح خداوند کریم نے نفوس طیبہ ان مقربین میں بھی روز ازل سے یہ خاصیت ڈال رکھی ہے کہ اُن کی توجہ اور دعا اور صحبت اور عقد ہمت بشرط قابلیت امراض رُوحانی کی دوا ہے۔اور اُن کے نفوس حضرت احدیت سے بذریعہ مکالمات و مخاطبات و مکاشفات انواع اقسام کے فیض پاتے رہتے ہیں اور پھر وہ تمام فیوض خلق اللہ کی ہدایت کے لئے ایک عظیم الشان اثر دکھلاتے ہیں۔غرض اہل اللہ کا وجود خلق اللہ کے لئے ایک رحمت ہوتا ہے۔اور جس طرح اس جائے اسباب میں قانونِ قدرت حضرت احدیت کا یہی ہے کہ جو شخص پانی پیتا ہے وہی پیاس کی درد سے نجات پاتا ہے اور جو شخص روٹی کھاتا ہے وہی بھوک کے دُکھ سے خلاصی حاصل کرتا ہے۔اسی طرح عادت الہیہ جاری ہے کہ امراض روحانی دُور کرنے کے لئے انبیاء اور اُن کے کامل تابعین کو ذریعہ اور وسیلہ ٹھہرا رکھا ہے۔انہی کی صحبت میں دل تستی پکڑتے ہیں۔اور بشریت کی آلائشیں رو بھی ہوتی ہیں اور نفسانی ظلمتیں اُٹھتی ہیں۔اور محبت الہی کا شوق جوش مارتا ہے اور آسمانی برکات اپنا جلوہ دکھاتی ہیں اور بغیر ان کے ہرگز یہ باتیں حاصل نہیں ہوتیں۔پس یہی باتیں اُن کی شناخت کی علامات خاصہ ہیں۔فَتَدَبَّرُ وَلَا تَغْفَلْ - ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۴۵ تا ۶ ۳۵ حاشیه در حاشیه نمبر۲) اب ہم اس جگہ بغرض فائدہ عام یہ بات بطور قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہیں کہ کلام کا وہ کونسا مرتبہ ہے جس مرتبہ پر کوئی کلام واقعہ ہونے سے اس صفت سے متصف ہو جاتا ہے کہ اس کو بے نظیر اور منجانب اللہ کہا جائے اور پھر بطور نمونہ کوئی سُورہ قرآن شریف کی لکھ کر اس میں یہ ثابت کر کے دکھلا ئیں گے کہ وہ تمام وجود بے نظیری جو قاعدہ کلیہ میں قرار دی گئی ہیں اس سورہ میں یہ تمام و کمال پائی جاتی ہیں۔اور اگر