حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 548
۵۴۸ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اُس کے ظل تھے۔سو تم قرآن کو نذیر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو۔ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو۔کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ الخـيــر كـلـه فـي القــرآن که تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔یہی بات سچ ہے افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سر چشمہ قرآن میں ہے۔کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے۔اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی اگر بجائے توریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے اُن کے قیامت سے منکر نہ ہوتے پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی۔یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔یہ بڑی دولت ہے۔اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی۔قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدائتیں بیچ ہیں۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۶، ۲۷) فرقان مجید با وجود ان تمام کمالات بلاغت و فصاحت و احاطہ حکمت و معرفت ایک رُوحانی تاثیر اپنی ذات بابرکات میں ایسی رکھتا ہے کہ اس کا سچا اتباع انسان کو مستقیم الحال اور منور الباطن اور منشرح الصدر اور مقبول الہی اور قابلِ خطاب حضرت عزت بنا دیتا ہے اور اس میں وہ انوار پیدا کرتا ہے اور وہ فیوض غیبی اور تائیدات لا ریبی اس کے شامل حال کر دیتا ہے کہ جو اغیار میں ہرگز پائی نہیں جاتیں اور حضرت احدیت کی طرف سے وہ لذیذ اور دل آرام کلام اُس پر نازل ہوتا ہے جس سے اُس پر دم بدم کھلتا جاتا ہے کہ وہ فرقان مجید کی سچی متابعت سے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی سے اُن مقامات تک پہنچایا گیا ہے کہ جو محبوبان الہی کے لئے خاص ہیں اور اُن ربانی خوشنودیوں اور مہربانیوں سے بہرہ یاب ہو گیا ہے جن سے وہ کامل ایمان دار بہرہ یاب تھے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔اور نہ صرف مقال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر بھی ان تمام محبتوں کا ایک صافی چشمہ اپنے پر صدق دل میں بہتا ہوا دیکھتا ہے اور ایک ایسی کیفیت تعلق باللہ کی اپنے منشرح سینہ میں مشاہدہ کرتا ہے جس کو نہ الفاظ کے ذریعہ سے