حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 544 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 544

۵۴۴ خیالات میں ڈوبے چلے آنا اور عیاشی اور بدمستی اور شراب خواری اور قمار بازی وغیرہ فستق کے طریقوں میں انتہائی درجہ تک پہنچ جانا اور چوری اور قزاقی اور خون ریزی اور دختر کشی اور یتیموں کا مال کھا جانے اور بیگانہ حقوق دبالینے کو کچھ گناہ نہ سمجھنا۔غرض ہر یک طرح کی بُری حالت اور ہر یک نوع کا اندھیرا اور ہر قسم کی ظلمت و غفلت عام طور پر تمام عربوں کے دلوں پر چھائی ہوئی ہونا ایک ایسا واقعہ مشہورہ ہے کہ کوئی متعصب مخالف بھی بشر طیکہ کچھ واقفیت رکھتا ہو اس سے انکار نہیں کر سکتا اور پھر یہ امر بھی ہر ایک منصف پر ظاہر ہے کہ وہی جاہل اور وحشی اور یاوہ اور نا پارسا طبع لوگ اسلام میں داخل ہونے اور قرآن کو قبول کرنے کے بعد کیسے ہو گئے۔اور کیونکر تاثیرات کلام الہی اور صحبت نبی معصوم نے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ان کے دلوں کو یکلخت ایسا مبدل کر دیا کہ وہ جہالت کے بعد معارف دینی سے مالا مال ہو گئے۔اور محبت دنیا کے بعد الہی محبت میں ایسے کھوئے گئے کہ اپنے وطنوں اپنے مالوں، اپنے عزیزوں، اپنی عزتوں ، اپنی جان کے آراموں کو اللہ جل شانہ کے راضی کرنے کے لئے چھوڑ دیا۔چنانچہ یہ دونوں سلسلے اُن کی پہلی حالت اور اس نئی زندگی کے جو بعد اسلام انہیں نصیب ہوئے قرآن شریف میں ایسی صفائی سے درج ہیں کہ ایک صالح اور نیک دل آدمی پڑھنے کے وقت بے اختیار چشم پر آب ہو جاتا ہے۔پس وہ کیا چیز تھی جو ان کو اتنی جلدی ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف کھینچ کر لے گئی۔وہ دو ہی باتیں تھیں۔ایک یہ کہ وہ نبی معصوم اپنی قوت قدسیہ میں نہایت ہی قوی الاثر تھا ایسا کہ نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔دوسری خدائے قادر مطلق حتی قیوم کی پاک کلام کی زبر دست اور عجیب تاثیر یں تھیں کہ جو ایک گروہ کثیر کو ہزاروں ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں۔بلاشبہ یہ قرآنی تاثیریں خارق عادت ہیں کیونکہ کوئی دنیا میں بطور نظیر نہیں بتلا سکتا کہ کبھی کسی کتاب نے ایسی تاثیر کی۔کون اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ کسی کتاب نے ایسی عجیب تبدیل و اصلاح کی جیسی قرآن شریف نے کی۔لاکھوں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کے اتباع سے برکات الہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولا کریم سے ہو جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ کے انوار اور الہام ان کے دلوں پر اُترتے ہیں اور معارف اور نکات ان کے مُنہ سے نکلتے ہیں۔ایک قوی تو کل ان کو عطا ہوتی ہے اور ایک محکم یقین ان کو دیا جاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الہی جو لذت وصال سے پرورش یاب ہے اُن کے دلوں میں رکھی جاتی ہے۔اگر اُن کے وجودوں کو ہاونِ مصائب میں پیسا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر نچوڑا جائے تو اُن کا عرق بجز حب الہی کے اور کچھ نہیں۔دنیا اُن سے ناواقف اور وہ دنیا سے دُور تر و بلند تر ہیں۔خدا