حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 540 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 540

۵۴۰ ایک نوع تو یہی کہ جو دعائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدائے تعالیٰ نے آسمان پر اپنا قادرانہ تصرف دکھلایا اور چاند کو دو ٹکڑے کر دیا۔دوسرے وہ تصرف جو خدائے تعالیٰ نے جناب ممدوح کی دُعا سے زمین پر کیا اور ایک سخت قحط سات برس تک ڈالا۔یاں تک کہ لوگوں نے ہڈیوں کو پیس کر کھایا۔تیسرے وہ تصرف اعجازی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شرکفار سے محفوظ رکھنے کے لئے بروز ہجرت کیا گیا۔یعنی جبکہ کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ جل شانہ نے اپنے اس پاک نبی کو اس بد ارادہ کی خبر دے دی اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم فرمایا۔اور پھر بفتح و نصرت واپس آنے کی بشارت دی۔بدھ کا روز اور دوپہر کا وقت اور سختی گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلاء منجانب اللہ ظاہر ہوا۔اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناگہانی طور پر اپنے قدیمی شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیر لیا۔تب ایک جانی عزیز جس کا وجود محبت اور ایمان سے خمیر کیا گیا تھا جانبازی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر باشارہ نبوی اس غرض سے مُنہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر قتل کرنے کے لئے ٹھہرے رہیں۔کس بہر کسے سر ندهد جان نہ فشاند عشق است که این کار بصد صدق کناندا سو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس وفادار اور جاں نثار عزیز کو اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے تو آخر تفتیش کے بعد ان نالائق بد باطن لوگوں نے تعاقب کیا اور چاہا کہ راہ میں کسی جگہ پا کر قتل کر ڈالیں۔اس وقت اور اس مصیبت کے سفر میں بجز ایک با اخلاص اور یک رنگ اور دلی دوست کے اور کوئی انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہ تھا۔ہاں ہر وقت اور نیز اس پُر خطر سفر میں وہ مولیٰ کریم ساتھ تھا جس نے اپنے اس کامل وفادار بندہ کو ایک عظیم الشان اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا تھا سو اس نے اپنے اس پیارے بندہ کو محفوظ رکھنے کے لئے بڑے بڑے عجائب تصرفاف اس راہ میں دکھلائے جو اجمالی طور پر قرآن شریف میں درج ہیں۔منجملہ ان کے ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جاتے وقت کسی مخالف نے نہیں دیکھا۔حالانکہ صبح کا وقت تھا اور تمام مخالفین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کر رہے تھے۔سوخدائے تعالیٰ نے جیسا کہ سورہ یسین میں اس کا ذکر کیا ہے ان سب اشقیاء کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور ے کوئی کسی کے لئے سر نہیں دیتا نہ جان قربان کرتا ہے۔عشق ہی ہے کہ یہ کام پوری وفاداری سے کراتا ہے۔