حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 539 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 539

۵۳۹ نہیں صرف قصے ہیں خدا جانے ان کی اصلیت کہاں تک درست ہے۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۵ تا ۴۵۰ ) معجزات اور خوارق قرآنی چار قسم پر ہیں۔(۱) معجزات عقلیہ (۲) معجزات علمیه (۳) معجزات برکات روحانیہ (۴) معجزات تصرفات خارجیہ۔نمبر اول دو و تین کے معجزات خواص ذاتیہ قرآن شریف میں سے ہیں اور نہایت عالیشان اور بد یہی الثبوت ہیں جن کو ہر یک زمانہ میں ہر یک شخص تازہ بتازہ طور پر چشم دید ماجرا کی طرح دریافت کر سکتا ہے لیکن نمبر چار کے منجزات یعنی تصرفات خارجیہ یہ بیرونی خوارق ہیں جن کو قرآن شریف سے کچھ ذاتی تعلق نہیں۔انہی میں سے معجزہ شق القمر بھی ہے۔اصل خوبی اور حسن و جمال قرآن شریف کا پہلے تینوں قسم کے منجزات سے وابستہ ہے بلکہ ہر ایک کلام الہی کا یہی نشانِ اعظم ہے کہ یہ تینوں قسم کے معجزات کسی قدراس میں پائے جائیں اور قرآن شریف میں تو یہ ہر سہ قسم کے اعجاز اعلیٰ والکمل واتم طور پر پائے جاتے ہیں۔اور انہی کو قرآن شریف اپنے بے مثل و مانند ہونے کے اثبات میں بار بار پیش کرتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔قُل لَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا لا یعنی ان منکرین کو کہہ دے کہ اگر تمام جن و انس یعنی تمام مخلوقات اس بات پر متفق ہو جائے کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنانی چاہئے تو وہ ہرگز اس بات پر قادر نہیں ہوں گے کہ ایسی ہی کتاب انہی ظاہری باطنی خوبیوں کی جامع بنا سکیں۔اگر چہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔اور پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔ھا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ۔اور پھر فرماتا ہے يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُب قَيْمَةٌ۔اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔لَوْ اَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ أَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِعَا مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ہے لیکن بایں ہمہ تصرفات خارجیہ کے اعجاز بھی قرآن شریف میں بکثرت درج ہیں۔اور اس قسم کے معجزات جمال قرآنی کے لئے بطور اس زیور کے ہیں جو خوبوں کو پہنایا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ نفس خوبصورتی زیور کے محتاج نہیں گو اس سے حسن کی آب و تاب کسی قدر اور بڑھ جاتی ہے۔اس جگہ واضح رہے کہ تصرفات خارجیہ کے معجزات قرآن شریف میں کئی نوع پر مندرج ہیں۔اے بنی اسرآئیل : ۸۹ سے الانعام : ٣٩ البينة : ٤،٣ الحشر :٢٢