حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 535 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 535

۵۳۵ امور محتاج الاصلاح سے وہ امور کفر اور بے ایمانی اور شرک اور بد عملی کے مراد ہیں جن کو بنی آدم نے بجائے عقائد حقہ اور اعمال صالحہ کے اختیار کر رکھا ہو اور جو عام طور پر تمام دنیا میں پھیلنے کی وجہ سے اس لائق ہو گئے ہوں کہ عنایت از لیہ ان کی اصلاح کی طرف توجہ کرے۔امور محتاج التکمیل سے وہ امور تعلیمیہ مراد ہیں کہ جو کتب الہامیہ میں ناقص طور پر پائے جاتے ہوں اور حالت کا ملہ تعلیم پر نظر کرنے سے اُن کا ناقص اور ادھورا ہونا ثابت ہوتا ہو اور اس وجہ سے وہ ایک ایسی کتاب الہامی کے محتاج ہوں جو اُن کو مرتبۂ کمال تک پہنچاوے۔امور قدرتیہ دوطور پر ہیں۔ا۔بیرونی شہادتیں۔ان سے وہ امور مراد ہیں جو بغیر وسیلہ انسانی تدبیروں کے خدا کی طرف سے پیدا ہو جائیں اور ہر ایک ذرہ بے مقدار کو وہ شوکت و شان اور عظمت و بزرگی بخشیں جس کا حاصل ہونا عند العقل محالات عادیہ سے متصور ہو اور جس کی نظیر صفحہ دنیا میں کہیں نہ پائی جاتی ہو۔۲۔اندرونی شہادتیں۔ان سے وہ محاسن صوری اور معنوی کتاب الہامی کے مراد ہیں جن کا مقابلہ کرنے سے قومی بشریہ عاجز ہوں اور جو فی الواقعہ بے مثل و مانند ہوکر ایسے قادر یکتا پر دلالت کرتی ہوں کہ گویا آئینہ خدا نما ہوں۔امور غیبیہ سے وہ امور مراد ہیں جو ایک ایسے شخص کی زبان سے نکلیں جس کی نسبت یہ یقین کیا جائے کہ ان امور کا بیان کرنا من کل الوجوہ اس کی طاقت سے باہر ہے یعنی ان امور پر نظر کرنے اور اس شخص کے حال پر نظر کرنے سے یہ بات بہ بداہت واضح ہو کہ نہ وہ امور اس کے لئے حکم بدیہی اور مشہود کا رکھتے ہیں اور نہ بذریعہ نظر اور فکر کے اس کو حاصل ہو سکتے ہیں اور نہ اُس کی نسبت عند العقل یہ گمان جائز ہے کہ اُس نے بذریعہ کسی دوسرے واقف کار کے ان امور کو حاصل کر لیا ہو گا۔گو وہی امور کسی دوسرے شخص کی طاقت سے باہر نہ ہوں۔پس اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ امور غیبیہ اضافی اور نسبتی امور ہیں۔یعنی ایسے امور ہیں کہ جب بعض خاص اشخاص کی طرف اُن کو نسبت دی جاتی ہے تو اس قابل ہو جاتے ہیں کہ امور غیبیہ ہونے کا اُن پر اطلاق ہو اور پھر جب وہی امور بعض دیگر کی طرف منسوب کئے جائیں تو یہ قابلیت اُن میں متحقق نہیں ہوتی۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۴۳ تا ۱۴۵) بعض معجزات و پیشگویاں قرآن شریف کی ایسی ہیں کہ وہ ہمارے لئے بھی جو اس زمانہ میں مشہود و