حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 534 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 534

۵۳۴ کامل اور معرفت تام تک پہنچاتا ہے اور جو جو خرابیاں اور ناپاکیاں اور خلل اور فساد لوگوں کے عقائد اور اعمال اور اقوال اور افعال میں پڑے ہوئے ہیں ان تمام مفاسد کو روشن براہین سے دُور کرتا ہے اور وہ تمام آداب سکھاتا ہے کہ جن کا جاننا انسان کو انسان بننے کے لئے نہایت ضروری ہے اور ہر یک فساد کی اُسی زور سے مدافعت کرتا ہے کہ جس زور سے وہ آجکل پھیلا ہوا ہے۔اُس کی تعلیم نہایت مستقیم اور قوی اور سلیم ہے گویا احکامِ قدرتی کا ایک آئینہ ہے اور قانونِ فطرت کی ایک عکسی تصویر ہے اور بینائی دلی اور بصیرت قلبی کے لئے ایک آفتاب چشم افروز ہے اور عقل کے اجمال کو تفصیل دینے والا اور اس کے نقصان کا جبر کرنے والا ہے۔لیکن دوسری کتابیں جو الہامی کہلاتی ہیں جب اُن کی حالت موجودہ کو دیکھا گیا تو بخوبی ثابت ہو گیا جو وہ سب کتابیں ان صفات کا ملہ سے بالکل خالی اور عاری ہیں اور خدا کی ذات اور صفات کی نسبت طرح طرح کی بدگمانیاں اُن میں پائی جاتی ہیں۔اور مقلد ان کتابوں کے عجیب عجیب عقائد کے پابند ہو رہے ہیں۔کوئی فرقہ ان میں سے خدا کو خالق اور قادر ہونے سے جواب دے رہا ہے اور قدیم اور خود بخود ہونے میں اس کا بھائی اور حصہ دار بن بیٹھا ہے اور کوئی بتوں اور مورتوں اور دیوتوں کو اس کے کارخانہ میں دخیل اور اس کی سلطنت کا مدار المہام سمجھ رہا ہے۔کوئی اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں اور پوتے اور پوتیاں تراش رہا ہے۔اور کوئی خود اسی کو کچھ اور کچھ کا جنم دے رہا ہے۔غرض ایک دوسرے سے بڑھ کر اس ذات کامل کو ایسا خیال کر رہے ہیں کہ گویا وہ نہایت ہی بدنصیب ہے کہ جس کمال تام کو اس کے لئے عقل چاہتی تھی۔وہ اس کو میسر نہ ہوا۔اب اے بھائیو! خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میں نے ایسے ایسے باطل عقائد میں لوگوں کو مبتلا دیکھا اور اس درجہ کی گمراہی میں پایا کہ جس کو دیکھ کر جی پکھل آیا اور دل اور بدن کانپ اُٹھا تو میں نے اُن کی رہنمائی کے لئے اس کتاب کا تالیف کرنا اپنے نفس پر ایک حق واجب اور دین لازم دیکھا جو بجز ادا کرنے کے ساقط نہ ہو گا۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۸۱ تا ۸۳) وہ براہین جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں چار قسم پر ہیں۔ایک وہ جو امور محتاج الاصلاح سے ماخوذ ہیں۔دوسری وہ جو امور محتاج التکمیل سے ماخوذ ہیں۔تیسری وہ جو امور قدرتیہ سے ماخوذ ہیں۔چوتھی وہ جو امور غیبیہ سے ماخوذ ہیں لیکن وہ براہین جو قرآن شریف کی حقیت اور افضلیت پر اندرونی شہادتیں ہیں وہ تمام امور قدرتیہ ہی سے ماخوذ ہیں اور تعریف اقسام مذکورہ کی بہ تفصیل ذیل ہے۔