حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 533
۵۳۳ آنکھ پھوڑ دے تو ہم اس کی آنکھ نہیں پھوڑ سکتے کیونکہ اُس کی تو آنکھیں ہی نہیں۔خلاصہ مطلب یہ کہ قرآن شریف نے ایسی صورتوں کو احکام میں داخل کرنے کے لئے اس قسم کے قواعد کلیہ بیان فرمائے ہیں۔پس اس کے احکام اور قوانین پر کیونکر اعتراض ہو سکے اور اُس نے صرف یہی نہیں کہا بلکہ ایسے قواعد کلیہ بیان فرما کر ہر ایک کو اجتہاد اور استخراج اور استنباط کی ترغیب دی ہے مگر افسوس کہ یہ ترغیب اور طرز تعلیم توریت میں نہیں پائی جاتی اور انجیل تو اس کامل تعلیم سے بالکل محروم ہے اور انجیل میں صرف چند اخلاق بیان کئے ہیں اور وہ بھی کسی ضابطہ اور قانون کے سلسلہ میں منسلک نہیں ہیں اور یادر ہے کہ عیسائیوں کا یہ بیان کہ انجیل نے قوانین کی باتوں کو انسانوں کی سمجھ پر چھوڑ دیا ہے جائے فخر نہیں بلکہ جائے انفعال اور ندامت ہے کیونکہ ہر ایک امر جو قانون کلی اور قواعد مرتبہ منتظمہ کے رنگ میں بیان نہ کیا جائے وہ امر گو کیسا ہی اپنے مفہوم کے رو سے نیک ہو بد استعمالی کے رو سے نہایت بد اور مکروہ ہو جاتا ہے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۸٬۸۷) ہما را خداوند کریم کہ جو دلوں کے پوشیدہ بھیدوں کو خوب جانتا ہے اس بات پر گواہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ذرہ کا ہزارم حصہ بھی قرآن شریف کی تعلیم میں کچھ نقص نکال سکے یا بمقابلہ اس کے اپنی کسی کتاب کی ایک ذرہ بھر کوئی ایسی خوبی ثابت کر سکے کہ جو قرآنی تعلیم کے برخلاف ہو اور اس سے بہتر ہو تو ہم سزائے موت بھی قبول کرنے کو طیار ہیں۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۹۸ حاشیہ نمبر۲) آج روئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہے کہ جس کا کلام الہی ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہے جس کے اصول نجات کے بالکل راستی اور وضع فطرتی پر مبنی ہیں جس کے عقائد ایسے کامل اور مستحکم ہیں جو براہین قومیہ ان کی صداقت پر شاہد ناطق ہیں جس کے احکام حق محض پر قائم ہیں۔جس کی تعلیمات ہر یک طرح کی آمیزش شرک اور بدعت اور مخلوق پرستی سے بکلی پاک ہیں۔جس میں تو حید اور تعظیم الہی اور کمالات حضرت عزت کے ظاہر کرنے کے لئے انتہا کا جوش ہے جس میں یہ خوبی ہے کہ سراسر وحدانیت جناب الہی سے بھرا ہوا ہے اور کسی طرح کا دھبہ نقصان اور عیب اور نالائق صفات کا ذات پاک حضرت باری تعالیٰ پر نہیں لگاتا اور کسی اعتقاد کو زبر دستی تسلیم کرانا نہیں چاہتا بلکہ جو تعلیم دیتا ہے۔اس کی صداقت کی وجوہات پہلے دکھلا لیتا ہے۔اور ہر ایک مطلب اور مدعا کو حجج اور براہین سے ثابت کرتا ہے اور ہر یک اصول کی حقیت پر دلائل واضح بیان کر کے مرتبہ یقین