حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 532 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 532

۵۳۲ کو بہت شرمندگی اٹھانی پڑی اور وہ یہ ہے کہ انجیل انسان کی تمام قوتوں کی مربی نہیں ہوسکتی اور جو کچھ اس میں کسی قدر اخلاقی حصہ موجود ہے اور وہ بھی دراصل توریت کا انتخاب ہے۔اس پر بعض عیسائیوں نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ ” خدا کی کتاب کے مناسب حال صرف اخلاقی حصہ ہوتا ہے اور سزا جزا کے قوانین خدا کی کتاب کے مناسب حال نہیں۔کیونکہ جرائم کی سزائیں حالات متبدلہ کی مصلحت کی رُو سے ہونی چاہیئیں اور وہ حالات غیر محدود ہیں اس لئے اُن کے لئے صرف ایک ہی قانون سزا ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ہر ایک سزا جیسا کہ وقت تقاضا کرے اور مجرموں کی تنبیہ اور سرزنش کے لئے مفید پڑ سکے دینی چاہئے لہذا ہمیشہ ایک ہی رنگ میں ان کا ہونا اصلاح خلائق کے لئے مفید نہیں ہوگا اور اس طرح پر قوانین دیوانی اور فوجداری اور مال گذاری کو محدود کر دینا اس بد نتیجہ کا موجب ہوگا کہ جو ایسی نئی صورتوں کے وقت میں پیدا ہو سکتا ہے جو ان قوانین محدودہ سے باہر ہوں۔مثلاً ایک ایسی جدید طرز کے امور تجارت پر مخالفانہ اثر کرے جو ایسے عام رواج پر مبنی ہوں جن سے اس گورنمنٹ میں کسی طرح گریز نہ ہو سکے اور یا کسی اور طرز کے جدید معاملات پر مؤثر ہو اور یا کسی اور تمدنی حالت پر اثر رکھتا ہو اور یا بد معاشوں کے ایسے حالات را سخہ پر غیر مفید ثابت ہو جو ایک قسم کی سزا کی عادت پکڑ گئے ہوں یا اس سزا کے لائق نہ رہے ہوں۔مگر میں کہتا ہوں کہ یہ خیالات ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے کبھی تدبر سے خدا کی کلام قرآن شریف کو نہیں پڑھا۔اب میں حق کے طالبوں کو سمجھاتا ہوں کہ قرآن شریف میں ایسے احکام جو دیوانی اور فوجداری اور مال کے متعلق ہیں دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جن میں سزا یا طریق انصاف کی تفصیل ہے۔دوسرے وہ جن میں ان امور کو صرف قواعد کلیہ کے طور پر لکھا ہے اور کسی خاص طریق کی تعیین نہیں کی۔اور وہ احکام اس غرض سے ہیں کہ تا اگر کوئی نئی صورت پیدا ہو تو مجتہد کو کام آویں۔مثلاً قرآن شریف میں ایک جگہ تو یہ ہے کہ دانت کے بدلے دانت آنکھ کے بدلے آنکھ۔یہ تو تفصیل ہے۔اور دوسری جگہ یہ اجمالی عبارت ہے کہ جَزَ وَ ا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ہے پس جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجمالی عبارت توسیع قانون کے لئے بیان فرمائی گئی ہے کیونکہ بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں یہ قانون جاری نہیں ہو سکتا۔مثلاً ایک ایسا شخص کسی کا دانت توڑے کہ اُس کے منہ میں دانت نہیں اور باعث کبر سنی یا کسی اور سبب سے اُس کے دانت نکل گئے ہیں تو دندان شکنی کی سزا میں ہم اُس کا دانت تو ڑ نہیں سکتے کیونکہ اس کے تو منہ میں دانت ہی نہیں۔ایسا ہی اگر ایک اندھا کسی کی الشورى : ۴۱