حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 44
۴۴ حملے ہوئے مگر ہر ایک حملہ میں دشمن ناکام رہے۔اور مجھے پھانسی دینے کے لئے منصوبہ کیا گیا مگر میں مسیح کی طرح صلیب پر نہیں چڑھا بلکہ ہر ایک بلا کے وقت میرے خدا نے مجھے بچایا اور میرے لئے اس نے بڑے بڑے معجزات دکھلائے اور بڑے بڑے قومی ہاتھ دکھلائے۔اور ہزار ہانشانوں سے اُس نے مجھ پر ثابت کر دیا کہ خدا وہی خدا ہے جس نے قرآن کو نازل کیا اور جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔اور میں عیسی مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا یعنی جیسے اُس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اُس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر اُن معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ اُن سے زیادہ اور یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور مراتب سے دنیا بے خبر ہے یعنی سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔یہ عجیب ظلم ہے کہ جاہل اور نادان لوگ کہتے ہیں کہ عیسی آسمان پر زندہ ہے حالانکہ زندہ ہونے کے علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں پاتا ہوں۔وہ خدا جس کو دنیا نہیں جانتی ہم نے اس خدا کو اس کے نبی کے ذریعہ سے دیکھ لیا اور وہ وحی الہی کا دروازہ جو دوسری قوموں پر بند ہے ہمارے پر محض اس نبی کی برکت سے کھولا گیا اور وہ معجزات جو غیر قو میں صرف قصوں اور کہانیوں کے طور پر بیان کرتی ہیں ہم نے اس نبی کے ذریعہ سے وہ معجزات بھی دیکھ لئے اور ہم نے اس نبی کا وہ مرتبہ پایا جس کے آگے کوئی مرتبہ نہیں۔مگر تعجب کہ دنیا اس سے بے خبر ہے۔مجھے کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہونے کا کیوں دعویٰ کیا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسی سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔اندھے کہتے ہیں یہ کفر ہے۔میں کہتا ہوں کہ تم خود ایمان سے بے نصیب ہو۔پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔کفر خود تمہارے اندر ہے۔اگر تم جانتے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو ایسا کفر منہ پر نہ لاتے۔خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو۔اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۵۳ تا ۳۵۵) میں اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اُس نے ابراہیم سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور پھر اسحاق سے اور اسمعیل سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی ایسا ہی