حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 527 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 527

۵۲۷ سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲ ۴۵ تا ۴۵۶) میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا اور اگر لوگ چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ میں دنیا داری کے کاموں میں نہیں پڑا اور دینی شغل میں ہمیشہ میری دلچسپی رہی۔میں نے اس کلام کو جس کا نام قرآن ہے نہایت درجہ تک پاک اور روحانی حکمت سے بھرا ہوا پایا۔نہ وہ کسی انسان کو خدا بناتا اور نہ روحوں اور جسموں کو اس کی پیدائش سے باہر رکھ کر اس کی مذمت اور نندیا کرتا ہے اور وہ برکت جس کے لئے مذہب قبول کیا جاتا ہے اس کو یہ کلام آخر انسان کے دل پر وارد کر دیتا ہے اور خدا کے فضل کا اس کو مالک بنا دیتا ہے۔پس کیونکر ہم روشنی پا کر پھر تاریکی میں آویں اور آنکھیں پا کر پھر اندھے بن جاویں۔سناتن دھرم۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۷۴) یہ امر ثابت شدہ ہے کہ قرآن شریف نے دین کے کامل کرنے کا حق ادا کر دیا ہے۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا لے یعنی آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور میں اسلام کو تمہارا دین مقرر کر کے خوش ہوا۔سو قرآن شریف کے بعد کسی کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ جس قدر انسان کی حاجت تھی وہ سب کچھ قرآن شریف بیان کر چکا۔اب صرف مکالمات الہیہ کا دروازہ کھلا ہے اور وہ بھی خود بخود نہیں بلکہ سچے اور پاک مکالمات جو صریح اور کھلے طور پر نصرت الہی کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اور بہت سے امور غیبیہ پرمشتمل ہوتے ہیں وہ بعد تزکیه نفس محض پیروی قرآن شریف اور اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتے ہیں۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۰) یا درکھنا چاہئے کہ ہر ایک الہام کے لئے وہ سنت اللہ بطور امام اور مھیمن اور پیشرو کے ہے جو قرآن کریم میں وارد ہو چکی ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی الہام اس سنت کو تو ڑ کر ظہور میں آوے کیونکہ اس سے پاک نوشتوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے۔(تبلیغ رسالت جلد سوم صفحہ ۱۵۶۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۳۲۹ بار دوم ) جاننا چاہئے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر ایک اہل زبان پر روشن ہوسکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر یک ملک کے آدمی کو خواہ وہ ہندی ہو یا پارسی یا یورپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہوملزم و ساکت ولا جواب کر سکتے ہیں۔وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی المآئدة :