حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 526 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 526

۵۲۶ بعد اس کے ترجمہ بقیہ آیات کا یہ ہے کہ ان کو کہہ دے کہ خدائے تعالیٰ کے فضل و رحمت سے یہ قرآن ایک بیش قیمت مال ہے سو اس کو تم خوشی سے قبول کرو۔یہ ان مالوں سے اچھا ہے جو تم جمع کرتے ہو۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ علم اور حکمت کی مانند کوئی مال نہیں یہ وہی مال ہے جس کی نسبت پیشگوئی کے طور پر لکھا تھا کہ مسیح دنیا میں آکر اس مال کو اس قدر تقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے۔یہ نہیں کہ مسیح درم و دینار کو جو مصداق آیت إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ہے جمع کرے گا اور دانستہ ہر یک کو مال کثیر دے کر فتنہ میں ڈال دے گا۔مسیح کی پہلی فطرت کو بھی ایسے مال سے مناسبت نہیں۔وہ خود انجیل میں بیان کر چکا ہے کہ مومن کا مال درم و دینار نہیں بلکہ جواہر حقائق و معارف اس کا مال ہیں۔یہی مال انبیا ء خدائے تعالیٰ سے پاتے ہیں اور اسی کو تقسیم کرتے ہیں۔اسی مال کی طرف اشارہ ہے کہ أَنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ هُوَ الْمُعْطِی - حدیثوں میں یہ بات بوضاحت لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اُٹھ جائے گا اور جہل شیوع پا جائے گا یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے لَوْ كَانَ الْإِیمَانُ مُعَلَّقًا عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ فارس۔یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سنہ ہجری میں شروع ہو گا جو آیت وَ اِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ تَقْدِرُونَ کے میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی سنہ ۱۲۷۴ء۔اس مقام کو غور سے دیکھو اور جلدی سے نکل نہ جاؤ اور خدا سے دعا مانگو کہ وہ تمہارے سینوں کو کھول دے۔آپ لوگ تھوڑے سے تامل کے ساتھ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ حدیثوں میں یہ وارد ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن زمین سے اُٹھا لیا جائے گا اور علم قرآن مفقود ہو جائے گا۔اور جہل پھیل جائے گا اور ایمانی ذوق اور حلاوت دلوں سے دُور ہو جائے گی۔پھر ان حدیثوں میں یہ حدیث بھی ہے کہ اگر ایمان ثریا کے پاس جا ٹھہرے گا یعنی زمین پر اس کا نام ونشان نہیں رہے گا تو ایک آدمی فارسیوں میں سے اپنا ہاتھ پھیلائے گا اور وہیں تریا کے پاس سے اس کو لے لے گا۔اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب جہل اور بے ایمانی اور ضلالت جو دوسری حدیثوں میں دخان کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے دنیا میں پھیل جائے گی اور زمین میں حقیقی ایمان داری ایسی کم ہو جائے گی کہ گویا وہ آسمان پر اُٹھ گئی ہو گی اور قرآن کریم ایسا متروک ہو جائے گا کہ گویا وہ خدائے تعالی کی طرف اُٹھایا گیا ہو گا تب ضرور ہے کہ فارس کی اصل سے ایک شخص پیدا ہو اور ایمان کو ثریا سے لے کر پھر زمین پر نازل ہو۔سو یقیناً التغابن : ١٦ المؤمنون : ١٩