حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 524
۵۲۴ ہے وہ تمام صداقتیں عقلی طور پر بپایہ ثبوت نہیں پہنچتیں تو فی الفور اُن سے منکر ہو جاتے ہیں اور تاویلات رکیکہ شروع کر دیتے ہیں کہ ملائک سے صرف قوتیں مراد ہیں اور وحی رسالت صرف ایک ملکہ ہے اور جنت اور جہنم صرف ایک روحانی راحت یا رنج کا نام ہے۔ان بے چاروں کو خبر نہیں کہ آلہ دریافت مجہولات صرف عقل نہیں ہے وبس بلکہ اعلیٰ درجہ کی صداقتیں اور انتہائی مقام کے معارف تو وہی ہیں جو مبلغ عقل سے صد ہا درجہ بلند تر ہیں جو بذریعہ مکاشفات صحیحہ ثابت ہوتی ہیں اور اگر صداقتوں کا محک صرف عقل کو ہی ٹھہرایا جائے تو بڑے بڑے عجائبات کا رخانہ الوہیت کے در پردہ مستوری و مجوبی رہیں گے اور سلسلہ معرفت کا محض نا تمام اور ناقص اور ادھورا رہ جائے گا اور کسی حالت میں انسان شکوک اور شبہات سے مخاصی نہیں پاسکے گا اور اس یکطرفہ معرفت کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ بوجہ نہ ثابت ہونے بالائی رہنمائی کے اور باعث نہ معلوم ہونے تحریکات طاقت بالا کے خود اس صانع کی ذات کے بارہ میں طرح طرح کے وساوس دلوں میں پیدا ہو جائیں گے۔سوایسا خیال کہ خالق حقیقی کے تمام دقیق در دقیق بھیدوں کے سمجھنے کے لئے صرف عقل ہی کافی ہے کس قدر خام اور نا سعادتی پر دلالت کر رہا ہے۔اور ان لوگوں کے مقابل پر دوسرا گروہ یہ ہے کہ جس نے عقل کو بکلی معطل کی طرح چھوڑ دیا ہے اور ایسا ہی قرآن شریف کو بھی چھوڑ کر جو سر چشمہ تمام علوم الہیہ ہے صرف روایات و اقوال بے سر و پا کو مضبوط پکڑ لیا ہے۔سو ہم ان دونوں گروہ کو اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ قرآن کریم کی عظمت و نورانیت کا قدر کریں اور اُس کے نور کی راہنمائی سے عقل کو بھی دخل دیں اور کسی غیر کا قول تو کیا چیز ہے اگر کوئی حدیث بھی قرآن کریم کے مخالف پاویں تو فی الفور اس کو چھوڑ دیں جیسا کہ اللہ جل شانۂ قرآن کریم میں آپ فرماتا ہے فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ کے یعنی قرآن کریم کے بعد کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔اور ظاہر ہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس وہ نص جو اول درجہ پر قطعی اور یقینی ہے قرآن کریم ہی ہے۔اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں۔وَالظَّنُّ لَا يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا۔مندرجہ ذیل صفات قرآن کریم کے غور سے پڑھو اور پھر انصافا خود ہی کہو کہ کیا مناسب ہے کہ اس کلام کو چھوڑ کر کوئی اور ہادی یا حکم مقرر کیا جائے اور وہ آیات یہ ہیں۔إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ اِنَّ فِي هَذَا لَبَلَعًا لِقَوْمٍ عُبِدِينَ وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ - وَإِنَّهُ لَحَقِّ الْيَقِينِ حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ تِبْيَانًا لِكُلِ الاعراف: ۱۸۲ ۲۔بنی اسرائیل : ۱۰ ۳ الانبیاء : ۱۰۷ ) الحاقة : ۵۲،۴۹ القمر : ٦