حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 522
۵۲۲ ا جائیں اُسی کا نام خدا ہے اور اگر کسی چیز میں بعض صفات باری تعالٰی کی پائی جائیں تب بھی وہ بعض میں شریک باری تعالیٰ کے ہوئے اور شریک الباری ببداہت عقل ممتنع ہے۔پس اس دلیل سے ثابت ہے کہ خدا کا اپنی تمام صفات اور اقوال اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے اور ذات اُس کی ان تمام نالائق امور سے منزہ ہے جو شریک الباری پیدا ہونے کی طرف منجر ہوں۔دوسرے ثبوت اس دعویٰ کا استقراء تام سے ہوتا ہے جو ان سب چیزوں پر جو صادر من اللہ ہمیں نظر تدبر کر کے بہ پا یہ صحت پہنچ گیا ہے۔کیونکہ تمام جزئیات عالم جو خدا کی قدرت کاملہ سے ظہور پذیر ہیں جب ہم ہر یک کو اُن میں سے عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اعلیٰ سے ادنیٰ تک بحد یکہ حقیر سے حقیر چیزوں کو جیسے مکھی اور مچھر اور عنکبوت وغیرہ ہیں خیال میں لاتے ہیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسی چیز ہم کو معلوم نہیں ہوتی جس کے بنانے پر انسان بھی قدرت رکھتا ہو بلکہ ان چیزوں کی بناوٹ اور ترکیب پر غور کرنے سے ایسے عجائب کام دست قدرت کے ان کے جسم میں مشہود اور موجود پاتے ہیں جو صانع عالم کے وجود پر دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ ہیں۔علاوہ ان سب دلائل کے یہ بات بھی ہر یک دانشمند پر روشن ہے کہ اگر یہ جائز ہوتا کہ جو چیزیں خدا کے دست قدرت سے ظہور پذیر ہیں اُن کے بنانے پر کوئی دوسرا شخص بھی قادر ہوسکتا تو کسی مصنوع کو اُس خالق حقیقی کے وجود پر دلالت کامل نہ رہتی اور امر معرفت صانع عالم کا بالکل مشتبہ ہو جاتا کیونکہ جب بعض ان اشیاء کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئیں ہیں بجز خدا کے کوئی اور بھی بنا سکتا ہے تو پھر اس بات پر کیا دلیل ہے جو کل اشیاء کوئی اور نہیں بنا سکتا۔اب جبکہ دلائل مستحکمہ سے ثابت ہو گیا کہ جو چیزیں خدا کی طرف سے ہیں اُن کا بے نظیر ہونا اور پھر ان کی بے نظیری ان کے منجانب اللہ ہونے پر دلیل قاطع ہونا اُن کی صادر من اللہ ہونے کے لئے شرط ضروری ہے تو اس تحقیق سے جھوٹ ان لوگوں کا صاف کھل گیا جن کی یہ رائے ہے کہ کلام الہی کا بے نظیر ہونا ضروری نہیں یا اس کے بے نظیر ہونے سے اس کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔پس اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ بے نظیر ہونے کی حقیقت اور کیفیت ربانی کام اور کلام سے مختص ہے۔اور ہر یک دانشمند جانتا ہے کہ خدا کی خدائی مانے کے لئے بڑا بھا را ذریعہ جو کہ عقل کے ہاتھ میں ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک صادر من اللہ ایسی بے نظیری کے رتبہ پر ہے کہ اس صانع وحید کے وجود پر دلالت کامل کر رہا ہے اور اگر یہ ذریعہ نہ ہوتا تو پھر عقل کو خدا تک پہنچنے کا راستہ مسدود تھا۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۴۹ تا۱۸۲) قرآن شریف وہ کتاب ہے جس نے اپنی عظمتوں اپنی حکمتوں اپنی صداقتوں اپنی بلاغتوں اپنے