حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 521 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 521

۵۲۱ جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔اس وقت اگر کسی کو قرآن شریف کی کوئی آیت بھی الہام ہو تو ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اس کے اس الہام میں اتنا دائرہ وسیع نہیں ہو گا جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہے۔الحکم ۳۱ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ا کالم ۳ و صفحه ۲ کالم ۱۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۴۰ ۴۱ جدید ایڈیشن ) قرآن شریف میں جس قدر باریک صداقتیں علم دین کی اور علوم دقیقہ الہیات کے اور براہین قاطعہ اصول حقہ کے معہ دیگر اسرار اور معارف کے مندرج ہیں اگر چہ وہ تمام فی حد ذا تہا ایسے ہیں کہ قومی بشریہ ان کو بہ بیت مجموعی دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور کسی عاقل کی عقل ان کے دریافت کرنے کے لئے بطور خود سبقت نہیں کر سکتی کیونکہ پہلے زمانوں پر نظر استقراری ڈالنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ کوئی حکیم یا فیلسوف ان علوم و معارف کا دریافت کرنے والا نہیں گذرا لیکن اس جگہ عجیب بر عجیب اور بات ہے یعنی یہ کہ وہ علوم اور معارف ایک ایسے امی کو عطا کی گئی کہ جو لکھنے پڑھنے سے نا آشنا محض تھا جس نے عمر بھر کسی مکتب کی شکل نہیں دیکھی تھی اور نہ کسی کتاب کا کوئی حرف پڑھا تھا اور نہ کسی اہل علم یا حکیم کی صحبت میسر آئی تھی بلکہ تمام عمر جنگلیوں اور وحشیوں میں سکونت رہی انہیں میں پرورش پائی اور انہیں میں سے پیدا ہوئے اور انہیں کے ساتھ اختلاط رہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمی اور ان پڑھ ہونا ایک ایسا بد یہی امر ہے کہ کوئی تاریخ دان اسلام کا اس سے بے خبر نہیں۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۱ ۵ تا ۵۶۳) جو چیز محض قدرت کا ملہ خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر ہو خواہ وہ چیز اس کی مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ہو اور خواہ وہ اس کی پاک کتابوں میں سے کوئی کتاب ہو جو لفظ اور معنا اسی کی طرف سے صادر ہو اُس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے کہ کوئی مخلوق اُس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو اور یہ اصول عام جو ہر یک صادر من اللہ سے متعلق ہے دوطور سے ثابت ہوتا ہے۔اوّل قیاس سے کیونکہ از روئے قیاس صحیح و مستحکم کے خدا کا اپنی ذات اور صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے اور اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز نہیں۔دلیل اس پر یہ ہے کہ اگر اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز ہو تو البتہ پھر سب صفات اور افعال میں جائز ہو اور اگر سب صفات اور افعال میں جائز ہو تو پھر کوئی دوسرا خدا بھی پیدا ہونا جائز ہو کیونکہ جس چیز میں تمام صفات خدا کی پائی