حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 520
۵۲۰ اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا۔اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہونچا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات کمال آپ پر ختم ہو چکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہونچے ہوئے تھے۔اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہونچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہو گئے آپ خاتم النبیین ٹھہرے اور آپ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں اُن سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہونچی ہوئی ہے یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت۔کیا باعتبار ترتیب مضامین۔کیا باعتبار تعلیم۔کیا باعتبار کمالات تعلیم۔کیا باعتبار ثمرات تعلیم۔غرض جس پہلو سے دیکھواسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی یعنی جس پہلو سے چاہو مقابلہ کرو۔خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت۔خواہ بلحاظ مطالب و مقاصد۔خواہ بلحاظ تعلیم۔خواہ بلحاظ پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہے۔غرض کسی رنگ میں دیکھو یہ معجزہ ہے۔الحکم ۲۴ / اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ا کالم ۳ و صفحہ ۲ کالم ۱۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۲۶، ۲۷۔ایڈیشن ۲۰۰۳ء) قرآن شریف ایسا معجزہ ہے کہ نہ وہ اوّل مثل ہوا اور نہ آخر کبھی ہو گا۔اُس کے فیوض و برکات کا در ہمیشہ جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اس طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔علاوہ اس کے یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ ہر شخص کا کلام اُس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت اور عزم اور مقاصد عالی ہوں گے اسی پایہ کا وہ کلام ہو گا۔اور وحی الہی میں بھی یہی رنگ ہو گا۔جس شخص کی طرف اُس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہوگا اُسی پایہ کا کلام اُسے ملے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے اور دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدود وقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیا۔اِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ جَمِيعًا ہے اور مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ " الاعراف :۱۵۹ الانبياء : ١٠٨