حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 43
۴۳ اصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔وهذا تحديث نعمة الله و لا فخر۔جیسا کہ ظاہر ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ آتے تو اس کام کو انجام نہ دے سکتے اور اگر قرآن شریف کی جگہ توریت نازل ہوتی تو اس کام کو ہرگز انجام نہ دے سکتی جو قرآن شریف نے دیا۔انسانی مراتب پردہ غیب میں ہیں۔اس بات میں بگڑنا اور منہ بنانا اچھا نہیں۔کیا جس قادر مطلق نے حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کیا وہ ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدا نہیں کر سکتا ؟ اگر قرآن شریف کی کسی آیت سے ثابت ہوتا ہے تو وہ آیت پیش کرنی چاہئے۔سخت مردود وہ شخص ہو گا جو قرآنی آیت سے انکار کرے۔ورنہ میں اس پاک وحی کے مخالف کیونکر خلاف واقعہ کہ سکتا ہوں جو قریباً تئیس برس سے مجھ کو تسلی دے رہی ہے اور ہزار ہا خدا کی گواہیاں اور فوق العادت نشان اپنے ساتھ رکھتی ہے۔خدا تعالیٰ کے کام مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں۔اُس نے دیکھا کہ ایک شخص کو محض بے وجہ خدا بنایا گیا ہے جس کی چالیس کروڑ آدمی پرستش کر رہے ہیں۔تب اُس نے مجھے ایسے زمانہ میں بھیجا کہ جب اس عقیدہ پر غلو انتہا تک پہنچ گیا تھا۔اور تمام نبیوں کے نام میرے نام رکھے مگر مسیح ابن مریم کے نام سے خاص طور پر مجھے مخصوص کر کے وہ میرے پر رحمت اور عنایت کی گئی جو اس پر نہیں کی گئی تا لوگ سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا میری نسبت اپنے نشانوں کے ساتھ گواہی دیتا ہے۔تو میری تکذیب تقومی کے برخلاف ہے۔(حقیقۃ الوحی حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۸،۱۵۷) خدا تعالیٰ کے الہام اور وحی سے میں کہتا ہوں کہ وہ جو آنے والا تھا وہ میں ہوں۔قدیم سے خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر جو طریق ثبوت کا رکھا ہوا ہے وہ مجھ سے جس کا جی چاہے لے لے۔الحکم مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۳۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۳۸۳ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اپنے خدائے پاک کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہوتا ہوں اور وہ خدا جس کو یسوع مسیح کہتا ہے کہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔میں دیکھتا ہوں کہ اُس نے مجھے نہیں چھوڑا اور مسیح کی طرح میرے پر بھی بہت