حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 519
۵۱۹ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۲٬۳۸۱) کسی با خبر آدمی کو منہ بھی نہیں دکھلا سکتے۔اور ان کے لمبے چوڑے عذرات کو یوں الگ کر کے رکھ دیا جس طرح کوئی کاغذ کا تختہ لیٹے۔والله انه درة يتيمة ظاهره نور و باطنه نور و فوقه نور و تحته نور و فی کل لفظه و کلمته۔نور۔جنة روحانية ذللت قطوفها تذليلا وتجرى من تحتها الانهار۔كل ثمرة السعادة توجد فيه و كل قبس يقتبس منه۔و من دونه خرط القتاد موارد فيضه سائغة فطوبى للشاربين۔و قد قذف في قلبي انوار منه۔ما كان لي ان استحصلها بطريق آخر۔ووالله لولا القرآن ماكان لى لطف حياتى۔رأيت حسنه ازيد من مائة الف يوسف۔فملت اليه اشد میلی و اشرب هو في قلبي هو رباني كما يربى الجنين۔وله على قلبی اثر عجیب و حسنه يراودني عن نفسي۔وانّي أدركت بالكشف ان حظيرة القدس تسقى بماء القرآن و هو بحر مواج من ماء الحياة من شرب منه فهو يحي بل يكون من المحيين۔- (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۴۶،۵۴۵) خاتم النبیین کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہو اور سارے کمالات اُس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں کیونکہ کلام الہی کے نزول کا عام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے جس پر کلام الہی نازل ہوتا ہے اُسی قدر قوت اور شوکت اس کلام کی ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اللہ کی قسم وہ ایک انمول موتی ہے جس کا ظاہر و باطن نور ہے اور اس کے اوپر بھی نور ہے اور نیچے بھی نور ہے اس کے ہر لفظ اور ہر بات میں نور ہے۔وہ ایسی روحانی جنت ہے جس کے خوشے جھکے ہوئے ہیں اور جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔سعادت کا ہر پھل اس میں پایا جاتا ہے۔اور ہر قسم کا فیض اس سے حاصل کیا جاتا ہے۔اور اس کے ورے مشقت ہی مشقت ہے۔اس کے فیض کے گھاٹ آسانی سے گلے سے اترنے والے ہیں۔پس خوش خبری ہے پینے والوں کے لئے۔میرے دل میں اس کے انوار میں سے ڈالا گیا ہے۔میرے لئے ممکن نہ تھا کہ میں کسی اور طریق سے اسے حاصل کر سکتا۔اور اللہ کی قسم اگر قرآن نہ ہوتا تو میری زندگی میں مجھے کوئی لطف حاصل نہ ہوتا۔میں نے اس کے حسن کو لاکھ یوسف سے بھی زیادہ حسین پایا پس میں اس کی طرف پوری طرح جھک گیا اور وہ میرے دل میں رچ بس گیا۔اس نے میری ایسی پرورش کی جس طرح ایک جنین کی پرورش کی جاتی ہے۔اور میرے دل پر اس کا ایک عجیب اثر ہے اور اس کا حسن مجھے میرے نفس کے خلاف پھسلا رہا ہے۔اور میں نے کشفا دیکھا ہے کہ جنت کو قرآن کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور وہ زندگی بخش پانی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔جو اس میں سے بنے گا وہ زندہ کیا جائے گا بلکہ وہ زندوں میں سے ہو جائیگا۔