حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 517
۵۱۷ جائے کیونکہ اس کی تعلیم کی رو سے ارواح اور پر مانو یعنی ذرات سب قدیم اور غیر مخلوق ہیں۔پس غیر مخلوق کے ذریعہ سے صانع کا کیونکر پتہ لگے۔ایسا ہی وید کلام الہی کا دروازہ بند کرتا ہے اور خدا کے تازہ۔نشانوں کا منکر ہے۔اور وید کی رو سے پر میشر اپنے خاص بندوں کی تائید کے لئے کوئی ایسا نشان ظاہر نہیں کر سکتا کہ جو معمولی انسانوں کے علم اور تجربہ سے بڑھ کر ہو۔پس اگر وید کی نسبت بہت ہی حسن ظن کیا جائے تو اس قدر کہیں گے کہ وہ صرف معمولی سمجھ کے انسانوں کی طرح خدا کے وجود کا اقرار کرتا ہے اور خدا کی ہستی پر کوئی یقینی دلیل پیش نہیں کرتا غرض دید وہ معرفت عطا نہیں کر سکتا جو تازہ طور پر خدا کی طرف سے آتی ہے اور انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیتی ہے۔مگر ہمارا مشاہدہ اور تجربہ اور اُن سب کا جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریف اپنی روحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے بچے پیرو کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اور اس کے دل کو منور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلا کر خدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جونکڑہ ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے۔اور علوم غیب عطا فرماتا ہے اور دُعا قبول کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتا ہے۔اور ہر ایک جو اس شخص سے مقابلہ کرے جو قرآن شریف کا سچا پیرو ہے خدا اپنے ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اس پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ اس بندہ کے ساتھ ہے جو اس کے کلام کی پیروی کرتا ہے۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۰۵ تا ۳۰۹) وہ خدا جس کے ملنے میں انسان کی نجات اور دائمی خوشحالی ہے وہ بجز قرآن شریف کی پیروی کے ہرگز نہیں مل سکتا۔کاش جو میں نے دیکھا ہے لوگ دیکھیں اور جو میں نے سُنا ہے وہ سنیں اور قصوں کو چھوڑ دیں اور حقیقت کی طرف دوڑیں۔وہ کامل علم کا ذریعہ جس سے خدا نظر آتا ہے وہ میل اتارنے والا پانی جس سے تمام شکوک دُور ہو جاتے ہیں۔وہ آئینہ جس سے اُس برتر ہستی کا درشن ہو جاتا ہے خدا کا وہ مکالمہ اور مخاطبہ ہے جس کا میں ابھی ذکر کر چکا ہوں۔جس کی رُوح میں سچائی کی طلب ہے وہ اُٹھے اور تلاش کرے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر رُوحوں میں سچی تلاش پیدا ہو اور دلوں میں سچی پیاس لگ جائے تو لوگ اس طریق کو ڈھونڈیں اور اس راہ کی تلاش میں لگیں۔مگر یہ راہ کس طریق سے کھلے گی اور حجاب کس دوا سے اُٹھے گا۔میں سب طالبوں کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف اسلام ہی ہے جو اس راہ کی خوشخبری دیتا ہے اور دوسری قو میں تو خدا کے الہام پر مدت سے مہر لگا چکی ہیں۔سو یقینا سمجھو کہ یہ خدا کی طرف