حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 516
۵۱۶ خود تراشیدہ پر میشر کے تصور سے دُور ہو سکتے ہیں یا صرف اپنے ہی تجویز کردہ خیالات سے دب سکتے ہیں اور یا کسی ایسے کفارہ سے رُک سکتے ہیں جس کا دُکھ اپنے نفس کو چھوا بھی نہیں؟ ہرگز نہیں۔یہ بات معمولی نہیں بلکہ سب باتوں سے بڑھ کر عقلمند کے نزدیک غور کرنے کے لائق یہی بات ہے کہ وہ تا ہی جو اس بے باکی اور بے تعلقی کی وجہ سے پیش آنے والی ہے جس کی اصلی جڑ گناہ اور معصیت ہے اس سے کیونکر محفوظ رہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسان یقینی لذات کو محض ظنی خیالات سے چھوڑ نہیں سکتا۔ہاں ایک یقین دوسرے یقینی امر سے دست بردار کرا سکتا ہے۔مثلاً ایک بن کے متعلق ایک یقین ہے کہ اس جگہ سے کئی ہرن ہم بآسانی پکڑ سکتے ہیں اور ہم اس یقین کی تحریک پر قدم اٹھانے کے لئے مستعد ہیں مگر جب یہ دوسرا یقین ہو جائے گا کہ وہاں پچاس شیر بر بھی موجود ہیں اور ہزارہا خونخوار اژدہا بھی ہیں جو منہ کھولے بیٹھے ہیں تب ہم اس ارادہ سے دست کش ہو جائیں گے۔اسی طرح بغیر اس درجہ یقین کے گناہ بھی دُور نہیں ہو سکتا لو ہالو ہے سے ہی ٹوٹتا ہے۔خدا کی عظمت اور ہیبت کا وہ یقین چاہئے جو غفلت کے پردوں کو پاش پاش کر دے اور بدن پر ایک لرزہ ڈال دے اور موت کو قریب کر کے دکھلا دے اور ایسا خوف دل پر غالب کرے جس سے تمام تار و پود نفس امارہ کے ٹوٹ جائیں۔اور انسان ایک غیبی ہاتھ سے خدا کی طرف کھینچا جائے اور اُس کا دل اس یقین سے بھر جائے کہ درحقیقت خدا موجود ہے جو بے باک مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔پس ایک حقیقی پاکیزگی کا طالب ایسی کتاب کو کیا کرے جس کے ذریعہ سے یہ ضرورت رفع نہ ہو سکے؟ اس لئے میں ہر ایک پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ وہ کتاب جوان ضرورتوں کو پورا کرتی ہے وہ قرآن شریف ہے اس کے ذریعہ سے خدا کی طرف انسان کو ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا کی محبت سرد ہو جاتی ہے۔اور وہ خدا جو نہایت نہاں در نہاں ہے اُس کی پیروی سے آخر کا ر اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور وہ قادر جس کی قدرتوں کو غیر قو میں نہیں جانتیں قرآن کی پیروی کرنے والے انسان کو خدا خود دکھا دیتا ہے اور عالم ملکوت کا اس کو سیر کراتا ہے اور اپنے انا الموجود ہونے کی آواز سے آپ اپنی ہستی کی اس کو خبر دیتا ہے۔مگر وید میں یہ ہنر نہیں ہے۔ہر گز نہیں ہے۔اور وید اس بوسیدہ گھڑی کی مانند ہے جس کا مالک مر جائے اور یا جس کی نسبت پتہ نہ لگے کہ یہ کس کی گھڑی ہے۔جس پر میشر کی طرف دید بلاتا ہے اس کا زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔بلکہ وید اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کرتا کہ اُس کا پر میشر موجود بھی ہے اور وید کی گمراہ کنندہ تعلیم نے اس بات میں بھی رخنہ ڈال دیا ہے کہ مصنوعات سے صانع کا پتہ لگایا