حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 42
۴۲ چونکہ یہ عاجز راستی اور سچائی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اس لئے تم صداقت کے نشان ہر ایک طرف سے پاؤ گے۔وہ وقت دور نہیں بلکہ بہت قریب ہے کہ جب تم فرشتوں کی فوجیں آسمان سے اُترتی اور ایشیا اور یورپ اور امریکہ کے دلوں پر نازل ہوتی دیکھو گے۔یہ تم قرآن شریف سے معلوم کر چکے ہو کہ خلیفتہ اللہ کے نزول کے ساتھ فرشتوں کا نازل ہونا ضروری ہے تا دلوں کو حق کی طرف پھیریں۔سو تم اس نشان کے منتظر رہو۔اگر فرشتوں کا نزول نہ ہوا اور ان کے اترنے کی نمایاں تاثیر میں تم نے دنیا میں نہ دیکھیں اور حق کی طرف دلوں کی جنبش کو معمول سے زیادہ نہ پایا تو تم نے یہ سمجھنا کہ آسمان سے کوئی نازل نہیں ہوا۔لیکن اگر یہ سب باتیں ظہور میں آگئیں تو تم انکار سے باز آؤ تا تم خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک سرکش قوم نہ ٹھہرو۔(فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۳ ۱۴ حاشیہ) پس میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رڈ کر دوں یا کیونکر اُس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اُس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔اس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفہ اللہ ہوں مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہر سکے۔ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۸ اصفحہ ۲۱۰) چونکہ میں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور اُس کی شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لئے تھی اس لئے مجھے وہ قو تیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی