حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 508 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 508

۵۰۸ دل نے ترسد بمہر تو مرا از موت ہم پائیداری ہا ہیں خوش میروم تا پائے دار کے راغب اندر رحمتت یا رحمۃ اللہ آمدیم اے کہ چُوں ما بر در تو صد ہزار امیدوار ہے یا نبی اللہ نثار رُوئے محبوب تو ام وقف راہت کرده ام این سر که بر دوش ست بار سے تا بمن نور رسول پاک را بنموده اند عشق او در دل ہے جو شد چو آب از آبشار کے آتش عشق از دم من ہمچو برقے سے جہد یک طرف اے ہمدمان خام از گرد و جوار ۵ برسر و جداست دل تا دید روئے او بخواب اے برآں روئے وسرش جان و سر و رویم نثار 1 صد ہزاران یوسفے بینم دریں چاہ ذقن واں مسیح ناصری شد از دم او بے شمار کے تاجدار هفت کشور آفتاب شرق و غرب بادشاه ملک و ملت ملجاء هر خاکسار ۸ کامران آں دل که زد در راه او از صدق گام نیک بخت آں سر که میدار دسر آں شہسوار 2 یا نبی اللہ جہاں تاریک شد از شرک و کفر وقت آں آمد که بنمائی رخ خورشید وار ما بینم انوار خدا در روئے تو اے دلبرم مست عشق روئے تو بینم دل ہر ہوشیار 11 اہل دل فہمند قدرت عارفان دانند حال از دو چشم شیراں پنہاں خور نصف النہار ۱۲ لے تیری محبت میں میرا دل موت سے بھی نہیں ڈرتا میرا استقلال دیکھ کہ میں صلیب کے نیچے خوش خوش جارہا ہوں۔سے اے اللہ کی رحمت ہم تیرے رحم کے امیدوار ہیں تو وہ ہے کہ ہم جیسے لاکھوں تیرے در کے امیدوار ہیں۔سے اے نبی اللہ میں تیرے پیارے مکھڑے پر نثار ہوں میں نے اس سر کو جو کندھوں پر بار ہے تیری راہ میں وقف کر دیا ہے۔جب سے مجھے رسول پاک کا نور دکھایا گیا تب سے اس کا عشق میرے دل میں یوں جوش مارتا ہے جیسے آبشار میں سے پانی۔۵ میرے دل سے اس کے عشق کی آگ بجلی کی طرح نکلتی ہے اے خام طبع رفیقو میرے آس پاس سے ہٹ جاؤ۔میرا دل وجد میں ہے جب سے آنحضور کو خواب میں دیکھا ہے اس چہرے اور سر پر میری جان سر اور منہ قربان ہوں۔کے اس چاہ ذقن میں میں لاکھوں یوسف دیکھتا ہوں اور اُس کے دم سے بے شمار مسیح ناصری پیدا ہوئے۔و هفت کشور کا شہنشاہ اور مشرق و مغرب کا آفتاب ہے دین و دنیا کا بادشاہ اور ہر خاکسار کی پناہ ہے۔کامیاب ہو گیا وہ دل جو صدق و وفا کے ساتھ اس کی راہ پر چلا خوش قسمت ہے وہ سر جو اس شہسوار سے تعلق رکھتا ہے۔اے نبی اللہ کفر اور شرک سے دنیا اندھیر ہو گئی اب وقت آ گیا ہے کہ تو اپنا سورج کی مانند چہرہ ظاہر کرے۔ا اے میرے دلبر میں انوار الہی تیری ذات میں دیکھتا ہوں اور ہر عقلمند دل کو تیرے عشق میں سرشار پاتا ہوں۔۱۲ صاحب دل تیری قدر پہچانتے ہیں اور عارف تیرا حال جانتے ہیں لیکن چمگادڑوں کی آنکھ سے دوپہر کا سورج چھپا ہوا ہے۔