حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 507
۵۰۷ زنده آن شخصی که نوشد جرعه از چشمه ات زیرک آن مردیکه کرد است اتباعت اختیار کے عارفاں را منتہائے معرفت علم رخت صادقاں را منتہائے صدق بر عشقت قرار ہے ۲ ہے تو ہرگز دولت عرفاں نے یا بد کسے گرچہ میرد در ریاضت ہا وجہدِ بے شمار سے تکیه بر اعمال خود بے عشق رویت ابلی است غافل از رویت نه بیند روئے نیکی زینہار ہے در دمے حاصل شود نورے زعشق روئے تو کان نہ باشد سالکاں را حاصل اندر روزگار ۵ از عجائب ہائے عالم ہر چہ محبوب و خوش است شانِ آں ہر چیز بینم در وجودت آشکار 1 خوشتر از دورانِ عشق تو نباشد بیچ دور خوب تر از وصف و مدح تو نباشد بیچ کار کے منکه ره بردم بخوبی ہائے بے پایانِ تو جاں گدازم بر تو گر دیگرے خدمتگذار A ہر کیسے اندر نماز خود دُعائے مے کند من دعا ہائے برو بار تو اے باغ بہار 2 یا نبی اللہ فدائے ہر سر موئے تو ام وقف راہ تو کنم گر جاں دہندم صد ہزار ما اتباع وعشق رویت از ره تحقیق چیست کیمیائے ہر دلے اکسیر ہر جانِ فگار 11 دل اگر خوں نیست از بهرت چه چیز است آن دلی در شمار تو نگردد جاں کجا آید بکار ۱۲ لے وہ شخص زندہ ہے جو تیرے چشمہ سے پانی کے گھونٹ پیتا ہے اور وہی انسان عقلمند ہے جس نے تیری پیروی اختیار کی۔عارفوں کی معرفت کا آخری نقطہ تیرے رخ کا علم ہے اور راستبازوں کے صدق کا منتہا تیرے عشق پر ثابت قدم رہنا ہے۔ے تیرے بغیر کوئی عرفان کی دولت کو نہیں پاسکتا۔اگر چہ وہ ریاضتیں اور جدوجہد کرتا مر بھی جائے۔تیرے عشق کے سوا صرف اپنے اعمال پر بھروسہ کرنا بے وقوفی ہے جو تجھ سے غافل ہے وہ ہرگز نیکی کا منہ نہ دیکھے گا۔۵ تیرے عشق کی وجہ سے ایک دم میں وہ نور حاصل ہو جاتا ہے جو سالکوں کو ایک لمبے زمانے میں حاصل نہیں ہوتا۔1 دنیا کی عجیب چیزوں میں سے جو چیز بھی دلپسند اور مفید ہے ایسی ہر چیز کی خوبیاں میں تیری ذات میں پاتا ہوں۔کے تیرے عشق کے زمانہ سے اور کوئی زمانہ زیادہ اچھا نہیں اور کوئی کام تیری مدح و ثنا سے زیادہ بہتر نہیں۔چونکہ مجھے تیری بے انتہا خوبیوں کا تجربہ ہے اس لئے اگر دوسرے تیرے خدمتگذار ہیں تو میں تجھ پر جان فدا کرنے کو تیار ہوں۔ہر شخص اپنی نماز میں (اپنے لئے ) دعا کرتا ہے مگر میں اے میرے آقا تیری آل و اولاد کے لئے دعا مانگتا ہوں۔ا اے نبی اللہ میں تیرے بال بال پر فدا ہوں اگر مجھے ایک لاکھ جانیں بھی ملیں تو تیری راہ میں سب کو قربان کر دوں۔اصل میں تیری اتباع اور تیرا عشق ہر دل کے لئے کیمیا اور ہر زخمی جان کیلئے اکسیر ہے۔دل اگر تیری محبت میں خون نہیں تو وہ دل ہی نہیں اور جو جان تجھ پر قربان نہ ہو وہ جان کس کام کی۔