حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 41
۴۱ واضح ہو کہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کرے اُس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے۔سو بموجب اس نبوی وصیت کے ضروری ہوا کہ ہر ایک حق کا طالب امام صادق کی تلاش میں لگا رہے۔اب ایک ضروری سوال یہ ہے کہ امام الزمان کس کو کہتے ہیں اور اس کی علامات کیا ہیں اور اُس کو دوسرے ملہموں اور خواب بینوں اور اہل کشف پر ترجیح کیا ہے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام الزمان اُس شخص کا نام ہے کہ جس شخص کی روحانی تربیت کا خدا تعالیٰ متولی ہو کر اُس کی فطرت میں ایک ایسی امامت کی روشنی رکھ دیتا ہے کہ وہ سارے جہان کے معقولیوں اور فلسفیوں سے ہر ایک رنگ میں مباحثہ کر کے ان کو مغلوب کر لیتا ہے۔وہ ہر ایک قسم کے دقیق در دقیق اعتراضات کا خدا سے قوت پا کر ایسی عمدگی سے جواب دیتا ہے کہ آخر مانا پڑتا ہے کہ اس کی فطرت دنیا کی اصلاح کا پورا سامان لے کر اس مسافر خانہ میں آئی ہے۔اس لئے اس کو کسی دشمن کے سامنے شرمندہ ہونا نہیں پڑتا۔وہ روحانی طور پر محمدی فوجوں کا سپہ سالار ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ پر دین کی دوبارہ فتح کرے اور وہ تمام لوگ جو اس کے جھنڈے کے نیچے آتے ہیں اُن کو بھی اعلیٰ درجہ کے قومی بخشے جاتے ہیں۔اور وہ تمام شرائط جو اصلاح کے لئے ضروری ہوتے ہیں اور وہ تمام علوم جو اعتراضات کے اٹھانے اور اسلامی خوبیوں کے بیان کرنے کے لئے ضروری ہیں اس کو عطا کئے جاتے ہیں۔(ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۷۲ تا ۴۷۷) یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔سوئیں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں اور مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور تمام شرطیں جمع کی ہیں اور اس صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا ہے۔( ضرورة الامام۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۴۹۵) یادر ہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی ، رسول ، محدّث ، مجد دسب داخل ہیں۔مگر جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کے لئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات اُن کو دیئے گئے وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں امام الزمان نہیں کہلا سکتے۔( ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۹۵)